مواہب الرحمٰن — Page 165
مواهب الرحمن ۱۶۵ اردو تر جمه الوسواس وما كان إتيانك إلا تيرا أنا صرف اس حج کی طرح ہے جس کے مناسک ادا نہ کئے گئے ہوں اور جس کی برکات كحِجَّة لا تُقضى مناسكها، ولا حاصل نہ ہوں۔پس جب مجھے تیری حیلہ سازی تحصل بركاتها۔ولما عثرتُ على ما احتلت، وعلى ما بادرت إلى اور اپنے آشیانہ کی طرف فوری لوٹ جانے کی اطلاع ملی تو تیری بدبختی اور نامراد واپسی پر میری وَكُرك وأجفلت، فاضت عيني آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تم جیسے تہی دست على شقوتك وخيبتك عند رجعتك خرجت كما دخلت داخل ہوئے تھے ویسے ہی نکل گئے۔اور جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔بخدا اگر تم مجھے ملتے تو میں وذهبت كما حللت ووالله لو ضرور تیری غم خواری کرتا خواہ تم میری دشمنی عاديتني۔وإنا لا نضمر حقد أحد كنت وافيتنى لواسيتك ولو کرتے کیونکہ ہم اپنے کسی بھی دشمن کی نسبت اپنے دل میں کوئی کینہ نہیں رکھتے۔اور جب دشمن من العدا، وإذا جاء نا عدو فالغلّ ہمارے پاس آتا ہے تو کینہ رخصت ہو جاتا ہے خلا۔ولذالك ساء ني لم تبوّأت۔یہی وجہ ہے کہ مجھے تمہارا مشرکوں کی فرودگاہ میں منزل المشركين وما عفت وما قیام پذیر ہونا بُرا لگا۔اور تم نے اسے ناپسند نہ اخترت طريق المتقين إنما کیا۔اور متقیوں کی راہ اختیار نہ کی۔مشرکین تو المشركون نجس وهم أعداؤنا ناپاک ہیں۔اور وہ ہمارے دشمن اور ہمارے رسول وأعداء رسولنا المصطفى ، بل محمد مصطفی ﷺ کے دشمن ہیں۔بلکہ تمام دشمنوں أعدى العدا أتظنون المشركين سے بڑھ کر دشمن ہیں۔کیا تم مشرکوں کو اپنے زیادہ أقرب إليكم ؟ عجبتُ من نهاكم ! قريب خیال کرتے ہو۔مجھے تمہاری عقل پر تعجب أتظنون فينا ظن السوء فذالكم ہے کیا تم ہماری نسبت بدظنی کرتے ہو۔یہی تمہاری ظنكم الذى أرداكم۔لا تطلب بدظنی ہی ہے جس نے تمہیں ہلاک کیا۔تم بحث کو البحث إلا كمقامرة، ولا تبغى صرف قمار بازی کی طرح چاہتے ہو۔اور مباحثے کو الجدال إلا كــمــصــارعة صرف گشتی کی طرح چاہتے ہو۔