مواہب الرحمٰن — Page 164
مواهب الرحمن ۱۶۴ اردو تر جمه الميدان وتُبار زنا كالفتيان؟ أتتك برتے پر تم ہمارا اس میدانِ ( فصاحت و بلاغت ) على الأصغر الذي كتب منه میں مقابلہ کرتے ہو۔اور جوانمردوں کی طرح ہماراسا منا کرتے ہو۔کیا تم اس اصغر علی پر بھروسہ الجعفر إليك وكنت قد فررت من کرتے ہو جس کی طرف سے جعفر (زٹلی ) نے هذه القرية مع لعن نزل عليك۔تمہیں لکھا اور تم اس بستی قادیان سے اپنے اوپر فاعلم أنهم يكذبون وليسوا رجال پڑنے والی لعنت کے ساتھ بھاگ نکلے؟ پس یاد المصارعة ولا قبل لأحد في هذه رکھو کہ وہ جھوٹے ہیں اور وہ مردِ میدان نہیں المناضلة۔دَعُ تصلفك یا ہیں۔اور نہ کسی کو اس مقابلہ کی تاب ہے۔اے مسكين، فإنك لست من مسكين ! اپنی لاف و گزاف چھوڑ کیونکہ تو مرد الرجال، ولو كنت شيئا لما نہیں۔اگر تجھ میں کوئی دم کم ہوتا تو تو بہانہ بنا کر فررت من الاحتيال ثم اعلم أنّی بھاگ نہ جاتا۔علاوہ ازیں تمہیں یاد رہے کہ ما رُضْتُ صعاب الأدب بالمشقة میں نے ادب کی مشکلات کو اپنی کسی محنت اور مشقت سے ریاضت نہیں کیا۔بلکہ یہ صرف میرے والتعب، بل هذه موهبة من ربّي ونلت منه سِمط الدررِ النُّخب رب کی موہبت ہے۔اور یہ قیمتی موتیوں کی لڑی میں نے اُس سے حاصل کی ہے۔یہ میرا حال فعليك خبيتك يتجلى، وسوف هذا أمرى ولكنّك إن بارزتني ہے۔لیکن اگر تم نے مجھ سے مقابلہ کیا تو تم پر اپنا باطن ظاہر ہو جائے گا۔اور میں تمہیں ضرور دکھا أريك بأي علوم تتحلى۔إن دوں گا کہ تم رکن علوم سے آراستہ ہو۔تیرا ( مجھے ) تغليطك أحق بالتغليط، وليس غلط قرار دینا ، خود غلط قرار دیئے جانے کے لائق فيه دون السلاطة، لا كبيــان ہے۔اس میں صرف بد زبانی ہی ہے فصیح البیانی السليط وما جئت قريتي هذه نہیں اور تو میری بستی ( قادیان) میں صرف لوگوں إلا لتخدع الناس، وتشیع کو دھوکہ دینے اور وسوسہ پھیلانے کے لئے آیا تھا۔