مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 139

مواهب الرحمن ۱۳۹ اردو تر جمه عذرى واسلك وفق شرطی اور عقل مندوں میں سے ہو تو میرے عذر کو قبول کرو إن كنت من أهل التقوى وأولى اور ميرى (مذکورہ) شرط کے مطابق چلو تم نے النهى۔وكتبت في رقعتك أن اپنے رقعہ میں لکھا ہے کہ حق کی تلاش نے تمہیں طلب الحق استخرجك من اپنے گھر سے باہر نکالا ہے اور اسی طلب حق نے كناسك، ورحلك عن أُناسك۔تمہیں اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر سفر پر آمادہ کیا ہے۔فإن كان هذا هو الحق فلم تعاف اگر یہ بات سچ ہے تو پھر تم کیوں اس طریق کو نا پسند طريقا يعصمني من نكث العهد کرتے ہو جو مجھے عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے بچاتا ونقض الوعد، وفيه تُؤدة وبعد من خطرات الوَبَدِ، على أنه هو ہے حالانکہ اس میں متانت بھی ہے اور تلخی کے أقرب بالأمن في هذا الزمن فإن خطرات سے بچاؤ بھی ہے۔علاوہ ازیں موجودہ زاع يزيد ويشتعل عند زمانہ میں یہ امن کے قریب تر ہے۔کیونکہ مقابلے المقابلة بالمطالبة، وينجر الأمر كے وقت دلیل کے مطالبے سے جھگڑا بڑھ جاتا من المباحثة إلى المجادلة، ومن ہے اور بھڑک اٹھتا ہے اور معاملہ بحث مباحثہ سے المجادلة إلى الـحـكـام، ومن جھگڑے تک جا پہنچتا ہے۔اور پھر جھگڑے سے الحكام إلى الأنام۔فمن فطنة حکام تک جا پہنچتا ہے اور حکام سے سزا تک پہنچتا المرء أن يجتنب طرق الأخطار، ہے لہذا انسان کی دانشمندی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ ولا يسعى متعمّدًا إلى النار وأى حرج عليـك فـي هـذا الطريق الذي اخترته؟ وأى ظلم پر خطر راہوں سے مجتنب رہے۔اور جانتے بوجھتے آگ کی طرف نہ بھاگے۔جو طریق میں يصيبك من النهج الذي آثرته؟ نے اختیار کیا ہے اس میں تمہارا کیا حرج ہے؟ اور وإنـي مـــا عُقْتُك من عرضِ جس راہ کو میں نے ترجیح دی ہے اُس سے تجھے کیا الشبهات، ولا من رمی سهام نقصان ہو گا؟ میں نے تمہیں شبہات پیش کرنے الاعتراضات، بيد أني اخترت سے اور اعتراضات کے تیر چلانے سے نہیں روکا۔طريقا هو خير لي وخير لك لو البتہ میں نے ایسی راہ اختیار کی ہے جو میرے لئے