مواہب الرحمٰن — Page 140
مواهب الرحمن ۱۴۰ اردو تر جمه كنت من العاقلين۔ولا مانع لك اور تمہارے لئے بہتر ہے۔کاش تم عقلمندوں میں أن تكتب مائة مرة إن كنت من سے ہوتے تمہارے لئے کوئی روک نہیں ، اگر المرتابين، وإنما اشترطت لك شک کی صورت میں تم سو مرتبہ بھی (اپنے شبہات ) الإيجاز في الترقيم لئلا نقع فی لکھ کر بھیجو۔اختصار کے ساتھ لکھنے کی شرط میں نے بحث نتحاماه خوفا من تمہارے لئے صرف اس لئے لگائی ہے کہ ہم کسی الحسيب العليم ثم من ایسی بحث میں نہ پڑ جائیں جس سے ہم علیم و الواجبات أن لا تعترض علينا إلا حبیب خدا کے خوف کی وجہ سے اجتناب کر رہے اعتراضا واحدا من ہیں۔پھر ایک ضروری شرط یہ ہے کہ تم اپنے ۱۱۲ الاعتراضات، وشبهة من اعتراضات میں سے ایک اعتراض اور اپنے الشبهات۔ثم إذا أدينا فريضة شبہات میں سے ایک شبہ ہمارے سامنے پیش الجواب بالاستیعاب، فعليك کرو۔پھر جب ہم بالا ستیعاب اس اعتراض اور أن تعرض شبهة أخرى وهذا هو شبہ کے جواب کا فریضہ ادا کر چکیں۔تب تمہیں أقرب إلى الصواب۔فإن كنتَ چاہیے کہ دوسرا اعتراض اور شبہ پیش کرو۔اور یہی خرجت من بلدتك على قدم طريق زيادہ مناسب ہے۔اگر تم راست روی السداد، وليس في قلبك نوع کے ساتھ اپنے شہر سے آئے ہو اور تمہارے دل من الفساد، فلا يشق عليك ما میں کسی قسم کا فساد نہیں تو تم پر ہماری وہ تحریر جو ہم كتبنا إليك وتقبله كعَدْلٍ فارغ نے تمہیں لکھ بھیجی ہے گراں نہیں ہوگی۔اور تم اسے من الحقد والعناد۔وإن كنت ایک ایسے عادل کی طرح قبول کر لو گے جو کینے اور تظن أن هذا الطريق لا يُظفرك عناد سے خالی ہوتا ہے۔اور اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ بمرادك، فأيقن أنك تريد طريق تمہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں کرے گا هناك بعض فسادك، تو مجھے یقین ہو جائے گا کہ تو یہاں کچھ فساد کا ارادہ وكذالك ظهرت الآثار، وعلم رکھتا ہے۔اور اس طرح کے آثار ظاہر بھی ہو چکے