مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 122

مواهب الرحمن ۱۲۲ اردو تر جمه۔يضاهئون مجروح الشوكة۔ومَن کی شان وشوکت میں رغبت رکھنے والے کانٹوں تمـايـل على خيرها فهو يبعد من سے زخمی کی مانند ہیں۔جو اس (دنیا) کے مال کی معادن الخيرات، ومن دخل في طرف مائل ہوتا ہے تو وہ نیکی کے خزینوں سے دور سراتها فهو يخرج من الصراط ہو جاتا ہے۔اور جو اس کے سرداروں میں داخل وإن نورها ظلمات، ونجدتھا ہوتا ہے وہ صراط مستقیم سے باہر نکل جاتا ہے۔اس ظلامات فلا تميلوا إليها كل كانور تاریکی ہے اور اس کی امداد ظلم وستم ہے۔اس الميل، فإنها تُغرق سابحها ولا لئے اس کی طرف کلیتا مت جھکو۔کیونکہ یہ اپنے كالسيل۔ولا تقصدوها قصد تیراک کوسیل تند و تیز سے بھی بڑھ کر غرق کرنے تند مشيح فارغ من الدين، ولا والی ہے۔پس دین سے فارغ اور اعراض کرنے ۹۸ تجعلوها إلا كخادم فی سبل والے کے قصد کرنے کی طرح دنیا کا قصد نہ کرو اور الملة لا كالخَدِين۔ولا تطمعوا اس کو راہ دین میں خادم کی حیثیت دو نہ کہ جگری كل الطمع في أن تكونوا أغنى دوست کی۔اور تم ہرگز یہ طمع نہ کرو کہ تم تمام لوگوں الناس رحيب الباع خصيب الرباع، ولا تنسوا حظكم من الشعاع۔وإن الدنيا أكلت آباء كم سے زیادہ متمول اور فراخ دست اور خوشحال ہو۔اور اپنے دین میں سے اپنے نصیب کو فراموش دينكم فلا تعطون ذرة من ذالك مت کرو، وگر نہ تمہیں اس شعاع ( ایمانی) سے ذرہ و آباء آبائكم فكيف تترككم بھی نہیں دیا جائے گا۔یہ دنیا تمہارے آباء اور ان کے آباء کو نگل چکی تو پھر یہ دنیا تمہیں تمہاری وأزواجكم وأبناء كم؟ ولا تتخذوا أحدًا عدوا من حقدِ بیویوں اور بیٹوں کو کیسے چھوڑ دے گی۔اور نادانوں أنفسكم كالسفهاء ، وطهروا کی طرح اپنے نفس کے کینے سے کسی کو دشمن نہ نفوسكم من الضغن و الشحناء۔بناؤ۔اپنے نفوس کو ہر طرح کے کینے اور بغض سے ولا تنكثوا العهود بعد میثاقھا، پاک رکھو۔اور عہد پختہ کر لینے کے بعد انہیں نہ ولا تكونوا عبيد أنفسكم بعد تو ڑو۔اور اپنے نفسوں پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد