مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 333
333 Another unforgettable event which warms all our hearts is the reconciliation between Pakistan and Bangladesh۔Pakistan and Bangladesh were one people and one country, but were separated by accident of history۔However, thanks to the untiring efforts of this Conference, both the Governments of Pakistan and Bangladesh have forged a new bond of relationship between them۔We all cannot but admire the magnanimity and a deep sense of understanding and accommodation shown by you, Mr۔Chairman, as leader of Pakistan, and by His Excellency Prime Minister Shaikh Mujibur Rahman۔May this historic event be the beginning of a new era of close and cordial relations between your two countries as brother nations within the Muslim World۔" قرآن عظیم میں ہندوستان کے مفسدہ عظیم 1857ء کی پیشگوئی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود نے وسط 1891ء میں ”ازالہ اوہام “ جیسی معرکہ آراء تالیف شائع کی جس میں آیت قرآنی إِنَّا عَلَی ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ (المومنون:19) کے اعداد کی روشنی ہے میں تحریر فرمایا: آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ“ میں 1857ء کی طرف اشارہ جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہو گئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل 1274 ہیں اور 1274 کے زمانہ کوجب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو 1857ء ہوتا ہے۔سو در حقیقت ضعف اسلام کا ابتدائی زمانہ 1857ء ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھا لیا جائے گا۔سوالیسا ہی1857ء میں مسلمانوں کی حالت ہوگئی تھی کہ بجز بد چلنی اور فسق و فجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا تھا۔انہیں ایام میں انہوں نے ایک ناجائز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجو د نمک خوار اور