مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 334 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 334

334 فتووں پر رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعا جائز نہ تھا کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیت اور ان کے زیر سایہ تھے اور رعیت کا اس گور نمنٹ کے مقابل پر سر اٹھانا جس کی وہ رعیت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتی ہے، سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکر وہ بدکاری ہے۔جب ہم 1857ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھانہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہادر کھا۔ننھے ننھے بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا، اور نہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا۔کیا یہ حقیقی اسلام تھا یا یہودیوں کی خصلت تھی۔کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کا کسی جگہ حکم دیا ہے۔پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ 1857ء میں میر اکلام آسمان پر اٹھایا جائے گا ، یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔خدا تعالیٰ پر یہ الزام لگانا کہ ایسے جہاد اور ایسی لڑائیاں اس کے حکم سے کی تھیں یہ دوسرا گناہ ہے۔کیا خدا تعالیٰ ہمیں یہی شریعت سکھلاتا ہے کہ ہم نیکی کی جگہ بدی کریں۔اور اپنی محسن گورنمنٹ کے احسانات کا اس کو یہ صلہ دیں کہ ان کی قوم کے صغر سن بچوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کریں اور ان کی محبوبہ بیویوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں۔بلاشبہ ہم یہ داغ مسلمانوں خاص کر اپنے اکثر مولویوں کی پیشانی سے دھو نہیں سکتے کہ وہ 1857ء میں مذہب کے پردہ میں ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہوئے جس کی ہم کسی قوم کی تواریخ میں نظیر نہیں دیکھتے۔“ (ازالہ اوہام طبع اول حاشیہ بحوالہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 489 تا492)