مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 231
231 آدمی تھا۔اس پر اسکی کئی باتیں اور مقالمے جو اسکی جرائد ورسائل میں طبع ہوتے رہے گواہ ہیں۔ہاں وہ کئی اہل حدیث علماء مثلاً قاضی شوکانی اور نواب صدیق حسن خان وغیرہ کی طرح فروع میں کسی امام کا مقلد نہ تھا۔بلکہ اُس نے صرف اس پر بس نہ کی بلکہ جسارت میں اتنا بڑھ گیا کہ کئی حفنی علماء حتی کہ اپنی کتاب ”تذکرہ“ میں حضرت امام ابو حنیفہ کی شان میں بھی گستاخی سے نہ رُکا اور وہ اکابر امت کی شان میں گستاخی اور سوئے ادب کرتا رہا ہے۔کوشش اس کی یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے لوگوں کا واحد امام بن جائے جس کی امامت پر تمام لوگ متفق ہوں اور لوگوں کے دین و دنیا کے معاملات میں ان کا امیر المسلمین ہو جائے۔اس نے بڑی کوشش کی کہ لوگ اسے امام الہند بنالیں اور اس پر اتفاق کر لیں لیکن اس کی بد قسمتی یہ کہ ہندوستان میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو علم صحیح، معرفت، تقویٰ اور سچی دیانت رکھنے والے ہیں۔جبکہ یہ شخص ان علماء سے علم و عمل میں کوسوں پیچھے ہے۔و اس حص کی (اس نفسانی کوششوں پر علماء دیوبند اٹھے اور انہوں نے یہ حقیقت طشت از بام کر دی یہ شخص اس مقام کا اہل نہ ہے۔ان علماء نے اپنی فراست سے بھانپ لیا کہ اگر اس شخص کو امام اور قائد بنالیا گیا تو وہ مفاسد کا دروازہ کھلے گا بعد میں پھر اُس کو بند کرنا بڑا مشکل ہو گا۔نتیجہ یہ شخص اپنی خواہش اور تمنا میں قطعا کامیاب نہ ہو سکا۔اس بے قدری کی کیفیت میں اس نے کچھ وقت ہی گزارا تھا کہ اس نے اعلان کر دیا کہ وہ ایک تفسیر تالیف کر رہا ہے۔اس پر لوگوں کی نظریں اس پر لگ گئیں اور لوگ اُس کا ایسے انتظار کرنے لگے جیسے پیاسے اونٹ پانی کے لئے متلاشی ہوتے ہیں۔پھر اُس نے پارہ پارہ کر کے ترجمہ قرآن شائع کر دیا جس میں کئی جگہ مختصر اور طویل حواشی بھی شامل کئے اور اُس کا نام ترجمان القرآن رکھا۔اس تفسیر میں اس نے سورۃ الفاتحہ پر بڑی تفصیل لکھی ہے۔میں نے بڑے اشتیاق سے اس تفسیر کو حاصل کیا۔سورۃ الفاتحہ کی تفسیر مکمل اور بقیہ تفسیر سے مختلف مقامات سے مختلف آیات کی تفسیر پڑھی ہے۔مگر میرے دل میں جو شوق کی کو جلی تھی وہ بالکل بجھ گئی۔بلکہ مجھے سخت افسوس ہوا اور دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ تفسیر شائع ہی نہ ہوئی ہوتی تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ پہلے میرے دل میں اس کی بڑی قدر و منزلت تھی۔اس تفسیر میں اس شخص کی سوچ منتشر نظر آتی ہے۔کبھی کسی وادی میں کبھی کسی وادی میں بھٹکتا ہے اور اوہام کے چنگل سے رہائی نہ پاسکا ہے اس تفسیر کو پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے آپ پر اور اپنی رائے پر بڑا نازاں ہے اور بزرگوں کی تقلید کا نجوا اس نے یکسر اتار پھینکا ہے۔اس چیز نے اسے صراط مستقیم سے کہیں دُور جا پھینکا ہے۔