مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 230
230 ہوں۔ایسا الزام ہے جو باطل ہے۔چغلی کرنے والوں نے اُس کو طعنہ دیا ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور یہ ایسا عیب ہے جو باطل ہے۔میری توفیق صرف اللہ کی مدد سے ہے۔اس پر میر ابھر وسہ ہے اور اسی کی طرف میں جھکتا اس ترجمہ کے متعلق مضمون نگار نے لکھا ہے: ”ہندوستانی زبان میں آج تک جس قدر بھی تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی امام ابوالکلام کی اس تفسیر کے ہم پایہ نہیں ہے سوائے سید رشید رضا کی تفسیر کے۔“ مجھے معلوم نہیں کہ آیا یہ تعریفی کلمات واقعی اس مفسر کے بیان سے متاثر ہو کر اس مضمون نگار کے صمیم قلب سے نکلے ہیں یا پھر محض زمانہ کے تقاضا کے پیش نظر بعض مصلحتوں کی خاطر مداہنت اور چاپلوسی کی ہے۔بہر حال یہی سچی بات کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ابوالکلام دہلوی ایک روشن دماغ، وسیع مطالعہ اور معلومات والا اور اردو میں تقریر و تحریر کا ماہر ہے اور شاید کہ وہ اپنے ہم عصروں میں عمدہ انشا پر دازی اور محاسن خطابت کے لحاظ سے یکتا ہو گا بلکہ اپنے اچھوتے انداز کا موجد بھی ہو گا۔اسکی ہیں (20) سال قبل کی زندگی اسکی آج کی زندگی سے زیادہ نفع رساں تھی اور غیر ملکی یعنی برطانوی حکومت کے پنجہ سے اپنے وطن کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں اس نے بڑی مستحکم کوششیں کی تھیں۔اس معاملہ میں اسے حکومت اور اس کی طاقت کا کبھی خوف نہیں ہوا۔اس وقت سے کئی علماء حق اسکے کاموں اور اسکی حالت کے بارہ میں کچھ کہنے سے رک گئے ہیں اور خاموش ہیں۔لیکن حریت وطن کے لئے اسکی مساعی جمیلہ کی وجہ سے میرے دل میں اس کی بڑی قدر ہے۔اپنے آغاز کار میں اس نے کئی پست ہمت لوگوں میں جوش عمل پیدا کر دیا تھا اور اپنے دو اخبارات الہلال اور البلاغ جاری کر کے اور سیاسی جلسوں میں اپنی دلوں کو گرویدہ کر لینے والی تقاریر سے سوئے ہوئے لوگوں کو جہاد آزادی کے لئے بیدار کر دیا تھا۔لیکن ایک بات ہے کہ یہ شخص اپنے آپ پر بڑا نازاں ہے اور اپنی رائے اور سوچ کو ہی درست سمجھتے ہوئے عام علماء کو بلکہ بڑے بڑے علماء ملت کو بھی اگر وہ اسکی رائے اور خواہش سے اختلاف رکھتے ہوں، معتبر جانتا ہے۔نتیجہ اس میں خساست، اتباع ہوائے نفس، اپنی رائے پر نازاں ہونے اور درست طریق اور صحیح علم کو چھوڑ دینے کے نقائص پید اہو گئے ہیں۔جتنا ہم اس کے بارہ میں علم رکھتے ہیں اس کے مطابق یہ شخص اپنے ابتداء کار میں صحیح الاعتقاد