مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 232
232 کرتی۔اور ہر ایک لیلی کی محبت کا دعویدار ہے جبکہ لیلیٰ ان کی اس محبت کا اقرار نہیں اس ترجمہ کی بعض ہفوات اس شخص نے اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں جس قدر بھی ادیان ہیں خواہ یہودیت و نصرانیت ہو یا مجوسیت ہو۔اگر کوئی شخص ان ادیان میں سے کسی ایک کو اُس کی اُس صورت میں اختیار کرے جس صورت میں اس دین کے شارع نبی نے اسے پیش کیا تھا۔تو اس کا یہ عمل روز قیامت اس کی نجات کے لئے کافی ہو گا۔کیونکہ ان تمام ادیان کی اصل ایک ہی ہے یعنی ایمان باللہ اور عمل صالح۔ہر دین کا شارع نبی توحید کی تعلیم لایا تھا اور اس نے عمل صالح کی طرف راہنمائی کی تھی۔شرک اور اعمال شر ان مذاہب کے پیروکاروں کے مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔مؤلف نے یہ مضمون اپنی تفسیر میں کئی جگہ مختلف انداز اور مختلف اسلوبوں میں دہرایا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ قرآن اس مذکورہ بالا مضمون کو بآواز بلند بیان کر رہا ہے۔مؤلف بزعم خود خیال کرتا ہے کہ یہی بات سارے قرآن کا خلاصہ اور مغز اور غرض و مقاصد ہے۔مؤلف نے یہ استدلال اس آیت سے کیا ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُ وأُ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (2:63) مؤلف کے نزدیک عمل صالح سے مراد شرعی احکام کی بجا آوری نہیں اور نہ ہی اس کے نزدیک ان شرعی احکام پر مدار کیا جاسکتا ہے۔اس کے مطابق یہ تمام شرعی احکام محض خول اور جسم ہیں نہ کہ دین کی اصل حقیقت اور روح۔اس اعتبار سے اس کے خیال وہ شخص جو ان شرائع اور ان کے احکام پر اعتقاد رکھنے سے منکر ہو تب بھی اس مؤلف کے نزدیک ایسا شخص مسلم ہو گا۔مزید یہ کہ اس مؤلف نے آیت اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَام اور آیت وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامَ۔۔۔۔۔الخَاسِرِینَ۔کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اسلام سے مراد محض وسیع تر وحدتِ دینی ہے۔اسلام کسی ایک شرع کو چھوڑ کر کسی دوسری شرع سے مختص نہیں کیونکہ تمام مذاہب اسی وحدتِ عامہ اور کامل سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔اس مؤلف کے نزدیک ملت اسلامیہ مخصوص اعتقادات و عبادات کا نام نہیں۔وہ مزید لکھتا ہے کہ لوگوں کی ان عادات اور شرائع اور دینی احکام کی بجا آوری کے طریق ایسی چیز ہے جس سے چھٹکارا نہیں اور نہ ہے ایسا امر ہے جس کا انکار کیا جائے یا جس کی بنا پر کسی پیرو کار پر ملامت کی جائے۔اس لئے اسے قارئین! اپنے تنگ اور گھٹے ہوئے