مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 64
64 اسی مجموعے کی ایک نظم نوائے مزدور ہے جس میں مزدور کا یہ احساس پوری شدت سے کار فرما نظر آتا ہے کہ موٹا جھوٹا پہننے والے اور نیم فاقہ زدہ مزدوروں ہی کے گاڑھے پینے کی کمائی سے حرام خور کار خانہ داروں کو ریشمی کپڑے اور زر و جواہر نصیب ہوتے ہیں۔اہل کلیسا بھی ہمارے ہی خون سے جونک کی طرح پلتے ہیں اور کاروبار سلطنت بھی ہمارے زورِ بازو سے چلتا ہے اور اس خرابہ عالم کی ساری رونق ہماری بدولت ہے : زمزد بنده کر پاس پوش و محنت کش نصیب خواجه ناکرده کار، رخت حریر زخوی فشانی من لعل خاتم والی زاشک کودک من گوہر ستام امیر زخونِ من چوز کو فربہی کلیسا را بزورِ بازوے من دستِ سلطنت ہمہ گیر خرابه رشک گلستان زگریه سحرم شباب لاله و گل از طراوت جگرم اسی نظم کے دوسرے بند میں قدیم نظام کو درہم برہم کرنے اور غار تنگرانِ عالم سے انتقام لینے کی محنت کشوں کو دعوت دی گئی ہے: بیا که تازه نوامی تراود ازرگ ساز ے کہ شیشہ گدازد بسافرا اندز یم مغان و دیر مغان را نظام تازه دهیم بنائے میکده های کهن بر انداز یم زر ہرناں چمن انتقام لالہ کشیم به بزم غنچه و گل طرح دیگر انداز یم بطوف شمع چو پروانه زیستن تاکے ز خویش ایں ہمہ بیگانہ زیستن تاکے