مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 63
63 تلخابه که دردِ سر آرد ازان من صہبائے پاک آدم وحوا ازان تو مرغابی و تذرو و کبوتر ازان من ظل ہما و شہپر عنقا ازان تو ایں خاک و آنچه در شکم او ازانِ من وز خاک تابه عرش معلاً ازان تو پیام مشرق ہی کے مندرجہ ذیل اشعار میں اقبال نے انقلاب روس کی پوری داستان بیان کی ہے۔زار شاہی کے خاتمے کے ساتھ ہی شہنشاہیت کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔دنیا کے مختلف محنت کش اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لیے میدان کارزار میں اُتر آئے ہیں۔روس میں لینن کو جلا وطنی سے آزاد کرا کے سر براہ مملکت بنا دیا گیا ہے۔جو باتیں پردہ راز میں تھیں، معلوم عوام ہو چکی ہیں۔اب باتیں بنانے سے کام نہیں چل سکتا۔اس کے بعد اپنے ہم وطنوں کو اقبال متنبہ کرتے ہیں کہ زندگی ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے۔اگر تم نے بصیرت سے کام نہ لیا تو دوڑ میں تم پیچھے رہ جاؤ گے۔افسر یاد شهی رفت و به یغمائی رفت نے اسکندری و نغمه دارائی رفت کوه کن تیشه بدست آمد پرویزی خواست عشرت خواجگی و محنت لالائی رفت یوسفی راز اسیری عزیزی بردند به ہمہ افسانہ وافسون زلیخائی رفت راز ہائے کہ نہاں بود، بیازار افتاد اں سخن سازی و آں انجمن آرائی رفت چشم بکشائی اگر چشم تو صاحب نظر است زندگی تعمیر جهان دگر است در پے