مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 65 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 65

65 اس دور میں اقبال کے ذہن پر انقلاب کا تصور جس طرح چھایا ہوا تھا، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ غلام رسول مہر اور عبد المجید سالک نے جب محنت و سرمایہ کی آویزش ہی کی بنا پر ظفر علی خاں کے اخبار ”زمیندار“ سے علیحدگی اختیار کی اور ایک نئے اخبار کی طرح ڈالی تو اقبال نے اس نئے اخبار کا نام ”انقلاب“ تجویز کیا اور اس کے پہلے شمارے کے لیے خواجہ و مزدور کے عنوان سے ایک نظم بھی کہہ کر دی۔جس میں سرمایہ داری اور جاگیر داری ہی کے خلاف نہیں بلکہ مذہب کے ٹھیکیداروں کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا تھا۔خواجه از خون رگ مز دور ساز لعل ناب از جفائے وہ خدایاں کشت دہقاناں خراب انقلاب انقلاب! اے انقلاب شیخ شهر از زشته تسبیح صد مومن بدام کافران ساده دل را بر همن زنار تاب انقلاب انقلاب! اے انقلاب یہ جانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ انقلاب روس سے پندرہ سال قبل اقبال نے اپنی اولین تصنیف علم الاقتصاد میں ملکیت کے باب میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا۔ان میں بھی کارل مارکس کے افکار کی صدائے بازگشت سنائی دیتی تھی۔مثلاً ایک جگہ اُنہوں نے لکھا ہے: تمدن انسانی کی ابتدائی صورتوں میں ملکیت یا جائیداد شخصی کا وجود مطلق نہ تھا۔محنت کی پیداوار میں حسب ضرورت سب کا حصہ تھا۔ہر شے ہر شخص کی ملکیت تھی اور کوئی خاص فرد یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ یہ خاص شے میری ملکیت ہے اور یہ کسی اور کی نہیں۔نہ کہیں افلاس کی شکایت تھی، نہ چوری کا کھٹکا تھا۔قبائل انسانی مل کر گزارا کرتے تھے اور امن و صلح کاری (کذا) کے ساتھ اپنے دن کاٹتے تھے۔یہ مشارکت جو اس ابتدائی تمدن میں انسانی کا اصول معاشرت تھی ہمارے ملک کے اکثر