مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 19
19 تکذیب اور اس کی نامرادی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے :- وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يْهَا مَنُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلَّى أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَوتِ فَاطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوسى وَ إِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ وَ مَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابِ۔(المومن : 38،37) اور فرعون نے کہا، اے ہامان میرے لئے محل بنا تا کہ میں ان راستوں تک جا پہنچوں جو آسمان کے راستے ہیں تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں۔بلکہ در حقیقت میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح اس کے بد اعمال خوبصورت کر کے دکھائے گئے اور وہ راستے سے روک دیا گیا اور فرعون کی تدبیر اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ نامرادی میں ڈوبی ہوئی تھی۔خدا کی قدرت! مسیح دوراں، کلیم خدا حضرت مهدی موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا: واذ یمکربک الذی کفر او قدلی یا هامان لعلى اطلع على اله موسى واني لا ظنه من الكاذبين تبت يدا أبي لهب وتب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا و ما اصابك فمن الله الفتنة فهنا فاصبر كما صبر اولو العزم الا انها فتنة من الله ليحب حباً جما حبا من الله العزيز الاکرم“ اور یاد کرو وہ وقت جب تجھ سے وہ شخص مکر کرنے لگا جس نے تکفیر کی اور تجھے کافر ٹھہرایا اور کہا کہ اے ہامان! میرے لئے آگ بھڑکا تا میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں اور میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ہلاک ہوئے دونوں ہاتھ ابی لہب۔کے وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو کچھ تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔اس جگہ ایک فتنہ برپا ہو گا پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔وہ فتنہ خدا کی طرف سے ہو گا تا وہ تجھ سے محبت کرے۔وہ اس خدا کی محبت ہے جو بہت غالب اور بزرگ ہے۔3 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود ( جن کے زمانہ خلافت میں 1934ء اور 1953ء کی احراری شورش اٹھی ) قرآن مجید خصوصاً سورۃ الفجر کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ جماعت احمدیہ کو بھی اس صدی میں کسی فرعون کی طرف سے خطر ناک مظالم کا نشانہ بنایا جائے گا۔چنانچہ آپ نے کم و بیش اٹھائیس برس پیشتر یہ خبر دی کہ :-