مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 18
18 پہلی فصل قرآن مجید کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت مہر نیم روز کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ ختم نبوت“ کے نام پر پہلی تحریک اولوا العزم پیغمبر خدا سید نا حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات (1817 ق م) 1 کے معا بعد اٹھی اور یہ کتاب اللہ کا ایک محیر العقول معجزہ ہے کہ جہاں بائبل اس اہم پہلو کے بارے میں پوری طرح خاموش ہے ، وہاں اُس نے نہ صرف واضح لفظوں میں اس کا ذکر فرمایا ہے بلکہ مستقبل میں اسی نام سے فتنہ برپا کرنے والے گمراہوں کی بھی چودہ سو سال قبل پیشگوئی کی ہے جو ختم نبوت کی آڑ میں قرآنی آیات پیش کر کے مجادلہ کریں گے۔ان کی سرگرمیاں خدا اور اس کے مومن بندوں کی ناراضگی کا موجب ہوں گی۔اُن کی تحریک متکبرانہ اور اسکی عملی تشکیل جابرانہ ہو گی جیسا کہ 1974ء میں ہوا۔چنانچہ اللہ جلشانہ سورہ مومن آیت 35-36 میں فرماتا ہے: وَ لَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا كَذلِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَتِ (المومن 36،35) اللهِ بِغَيْرِ سُلْطنٍ اَشْهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔”یقینا تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف بھی کھلے کھلے نشانات لے کر آچکا ہے۔مگر تم اس بارہ میں ہمیشہ شک میں رہے جو وہ تمہارے پاس لایا۔یہاں تک کہ جب وہ مر گیا تو تم کہنے لگے کہ اب اس کے بعد اللہ ہر گز کوئی رسول معبوث نہیں کرے گا۔اسی طرح اللہ حد سے بڑھنے والے اور شک میں تقبلا رہنے والے کو گمراہ ٹھہرائے گا۔2 ان لوگوں کو جو آیات اللہ کے بارے میں بغیر کسی غالب دلیل کے جو اُن کے پاس آئی ہو، جھگڑا کریں گے جو اللہ کے نزدیک بھی بہت بڑا گناہ ہے اور مومنوں کے نزدیک بھی۔اسی طرح اللہ ہر متکبر اور سخت جابر کے دل پر مہر لگا دے گا۔“ سبحان اللہ ! خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وعدے والے زندہ خدا نے چودہ سوسال قبل کیسا واضح نقشہ احرار کی نام نہاد تحریک ختم نبوت اور ان کے مطالبہ اقلیت کا کھینچ کر رکھ دیا ہے اور اُن کے مذہبی اور سیاسی حربوں کی نشان دہی فرما دی ہے کہ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔اس سے بڑھ کر تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان آیات کے معابعد فرعون کی