مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 62
62 اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے بانگ درا کی اشاعت سے ایک سال قبل ، 1923ء کے وسط میں اقبال کا فارسی مجموعہ کلام ” پیام مشرق “ کے نام سے شائع ہوا۔اس کے دیباچہ میں اُنھوں نے لکھا تھا کہ :- یورپ کی جنگ عظیم (1914ء تا 1918ء) ایک قیامت تھی جس نے پرانی دنیا کے نظام کو قریباً ہر پہلو سے فنا کر دیا ہے اور اب تہذب و تمدن کے خاکستر سے فطرت ، زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لیے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے۔“ مندرجہ بالا اقتباس میں اقبال نے جس نئے آدم کے ظہور کا مژدہ سنایا تھا، اس نے سوویت یونین میں جنم لیا تھا۔پیام مشرق کی تمام نظموں میں خواہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، جو نیا ولولہ اور نیا آہنگ ملتا ہے ، وہ انقلاب روس ہی کی دین تھا۔خضرہ راہ 1921ء میں کہی گئی تھی۔پیام مشرق کی بیشتر نظمیں بھی اسی زمانے کی ہیں اور ان میں سے اکثر نظموں میں اقبال نے ان خیالات کو واضح تر الفاظ میں بیان کیا ہے جو ہمیں خضر راہ میں ملتے ہیں۔مثال کے لیے یہ شعر لیجیے۔مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات اس کی مکمل تفسیر قسمت نامہ سرمایہ دار و مز دور میں ملتی ہے۔سرمایہ دار بڑی پر کاری سے مزدور کو سمجھاتا ہے کہ یہ پر شور کار خانے، مال و منال اور دنیوی عیش و آرام جو عارضی ہیں اور جن کے حصول میں بڑی دردسری کرنی پڑتی ہے ، وہ میں لیے لیتا ہوں اور دوسری دنیا کا ابدی عیش و آرام تمہارے لیے چھوڑ تا ہوں۔زمین کے اندر جو کچھ ہے ، وہ میرا ہے اور زمین سے لے کر عرش معلی تک جو کچھ ہے، اس کے مالک تم ہو : غوغائے کارخانہ آہنگری زمن گلبانگ از عنون کلیسا ازان تو نخلے کہ شہ خراج برومی نهد زمن باغ بهشت وسدره وطوبا ازان تو