مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 54
54 انقلاب نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوزوساز حیات خودی کی موت ہے یہ ، اور وہ ضمیر کی موت! دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا قریب آگئی شاید جہانِ پیر کی موت! اقبال اور سوشلزم کی تائید میں مستقل تصنیف سیر اقبال نے سوشلزم اور کارل مارکس اور لین کی قصیدہ خوانی کے علاوہ ”علم الاقتصاد“ کے نام پر ایک مستقل تصنیف بھی شائع کی جو اسلامی معاشیات کی روح کچل کر مار کس اور ہیگلز کے دہر یہ نظام کی تعمیر کرنے کی ناپاک سازش تھی جس نے بے شمار مسلمانوں کو اس یا جو جی ماجوجی تحریک کا گرویدہ اور والہ وشید ابنا دیا۔اس سلسلہ میں پاکستان کے ایک محقق جناب ڈاکٹر سلیم اختر صاحب کا وہ دیباچہ بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے جو انہوں نے ”علم الاقتصاد، کے جدید ایڈیشن (2004ء۔ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور) کے تعارف میں سپرد قلم فرمایا ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں :- ”اقبال غیر منصفانہ تقسیم دولت کے تصور سے نا آشنانہ تھے۔لگان پر بچت کے دوران یوں لکھا: جوں جوں آبادی بڑھتی ہے ، ضرورت ان زمینوں کو کاشت میں لانے پر مجبور کرتی ہے جو اس سے پہلے غیر مزروعہ پڑی تھیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو زمینیں افزائش آبادی سے پیشتر کاشت کی جاتی تھیں، ان کا لگان بڑھ جاتا ہے۔زمیندار روز بروز دولت مند ہوتے جاتے ہیں، حالانکہ یہ مزید دولت جوان کو ملتی ہے نہ ان کی ذاتی کوششوں اور نہ ان کی زمینوں کے محاصل کی مقدار بڑھنے کا نتیجہ ہوتی ہے بلکہ صرف آبادی کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے۔ان کی ذاتی کوششیں اور ان کی زمینوں کے محاصل کی مقدار میں کوئی فرق نہیں آتا۔پھر ان کا کوئی حق نہیں کہ دولت مند ہوتے جائیں۔کوئی وجہ نہیں کہ آبادی کی زیادتی سے قوم کے خاص افراد کو فائدہ پہنچے اور باقی قوم اس سے محروم رہے۔اگر یہ فائدہ ان کی ذاتی کوششوں یا ان کی زمینیوں کے محاصل کے بڑھ جانے کا نتیجہ ہوتا تو ایک بات تھی