مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 324
324 اس بناء پر کسی فرقہ نے دوسرے کو غیر مسلم قرار دینے کا کبھی مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی جواز ہو سکتا تھا۔ضمناً یہاں یہ ذکر کرنا از بس ضروری ہے کہ اسمبلی سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی پہلی آواز سانحہ ربوہ سے پہلے ملتان سے احرار اور " مجلس تحفظ ختم نبوت “ ہی نے اٹھائی تھی۔ان دین فروش اور خلاف اسلام حرکات کے خلاف خود علماء ہی کے حلقوں سے احتجاج کیا جار ہا تھا۔چنانچہ ایک سابق احراری و مودودی راہنما مولوی عبد الرحیم اشرف مدیر ”المنیر“ فیصل آباد نے واضح لفظوں میں لکھا:۔اس وقت جو کوشش ”تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے قادیانیت کے خلاف جاری ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کوشش کا اصل محرک خلوص، خدا کے دین کی حفاظت کا جذبہ ہے یا حقیقی وجہ معاشی اور منفی ذہن کے رجحانات کا مظاہرہ ہے۔ہماری رائے میں یہ کوشش نہ صرف یہ کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مفید نہیں ہے۔بلکہ ہم علی وجہ البصیرت کامل یقین واذعان کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ جدوجہد قادیانی شجرہ کے بار آور ہونے کے لئے مفید کھاد کی حیثیت رکھتی ہے۔تحفظ ختم نبوت ہو یا مجلس احرار۔۔۔۔ان دونوں کے نام سے آج تک قادیانیت کے خلاف جو کچھ کیا گیا ہے، اس نے قادیانی مسئلہ کو الجھایا ہے۔ان حضرات کے اختیار کردہ طرز عمل نے راہ حق سے بھٹکنے والے قادیانیوں کو اپنے عقائد میں پختگی کا مواد فراہم کیا ہے اور جو لوگ متذبذب تھے انہیں بد عقیدگی کی جانب مزید دھکیلا ہے۔استہزاء اشتعال انگیزی، یاوہ گوئی، بے سروپا لفاظی، اس مقدس نام کے ذریعہ مالی نین، لادینی سیاست کے داؤ پھیر ، خلوص سے محروم اظہار جذبات ، مثبت اخلاق فاضلہ سے تہی کر دار ، ناخد اتر سی سے بھر پور مخالفت کسی بھی غلط تحریک کو ختم نہیں کر سکتی۔اور ملت اسلامیہ پاکستان کی ایک اہم محرومی یہ ہے کہ ” مجلس احرار اور تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا اکثر و بیشتر حصہ انہی عنوانات کی تفصیل ہے۔“3 یہی نہیں مولوی عبد الرحیم صاحب نے ختم نبوت اور وحدت امت“ کے زیر عنوان نام نہاد محافظین ختم نبوت کو چیلنج کرتے ہوئے یہاں تک لکھا:۔