مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 325
325 ختم نبوت کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ امت محمدیہ بنیان مرصوص کی حیثیت سے قائم علی الحق رہتی۔اس کے جملہ مکاتب فکر اور تمام فرقوں کے مابین دین کے اساسات پر اس نوع کا اتحاد ہوتا جس نوع کا اتحاد ایک صحیح الذہن امت میں ہونا ناگزیر تھا۔لیکن غور کیجئے کیا ایسا ہوا؟ بلاشبہ ہم نے متعد د مراحل پر اتحاد امت کے تصور کو پیش کیا اور سب سے زیادہ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کے سٹیج سے ڈائر کٹ ایکشن کے ویرانے تک ہم نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام فرقے ”یک جان ہیں کیا حقیقہ ایسا تھا؟۔کیا حالات کی شدید سے شدید تر نا مساعدت کے باوجود ہماری تلوار نیام میں داخل ہوئی؟ کیا ہولناک سے ہولناک تر واقعات نے ہمارے فتاوی کی جنگ کو ٹھنڈا کیا ؟ کیا کسی مرحلہ پر بھی ”ہمارا فرقہ حق پر ہے اور باقی تمام جہنم کا ایندھن ہیں“ کے نعرہ سے کان نامانوس ہوئے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو بتائیے اس سوال کا کیا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والی امت کے اگر تمام فرقے کافر ہیں اور ہر ایک دوسرے کو جہنمی کہتا ہے۔تو لا محالہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو سب کو اس کفر اور جہنم سے نکال کر اسلام اور جنت کا یقین دلا سکے۔4 خلاصہ کلام یہ کہ احراریوں، دیوبندیوں کی شورش کے دوران ہی وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی صاحب بھٹو کو بھارت کے خفیہ دھماکہ کا پتہ چل گیا۔جس پر انہوں نے 13 جون 1974ء کو تقریر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ واقعہ ربوہ کے پیچھے بھارت، کابل اور روس کا ہاتھ کار فرما ہے اور یہ سب کچھ دشمنان پاکستان کی طرف سے پاکستان کو تباہ کرنے کا خوفناک منصوبہ ہے۔مسٹر بھٹو کی انگریزی تقریر کا متن اخبار ” پاکستان ٹائمز “ (Pakistan Times) نے حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا۔"The Prime Minister said that the people were aware that there were deep-rooted conspiracies against their country۔The conspiracies had existed long before Pakistan came into benign۔They existed even when the struggle for Pakistan had been launched۔