مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 323 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 323

323 بنے کا پختہ فیصلہ کر لیا اور 1972ء میں اس بارے میں ایٹمی سائنس دانوں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔مگر انہی دنوں ایٹمی ادارہ کا سر براہ اچانک چل بسا۔اور وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کو یہ منصوبہ نئے سر براہ ڈاکٹر ایم این سیتھنا کو سونپنا پڑا۔بھارتی مصنفین اور خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے تمام ایٹمی سائنسدانوں میں سے وزیر اعظم کے اس فیصلے کا علم صرف سیتھنا کو تھا۔اس لئے اس منصوبے پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے کام کیا گیا۔یہ فیصلہ وزیر اعظم نے ذاتی طور پر کیا تھا اور اس کے لئے اپنی کا بینہ سے بھی مشورہ کرنے سے گریز کیا تھا۔جب منصوبے کے مختلف ٹکڑوں کو یکجا کیا جانے لگا تب جا کر مسٹر سیتھنانے اپنے پانچ قریب ترین ساتھیوں کو بتایا کہ وہ لوگ شب روز کس چیز پر دماغ سوزی کرتے رہے ہیں۔جبکہ وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے سینئر وزراء، منتخب فوجی جرنیلوں اور چند اعلیٰ سول افسروں کو صرف چند روز قبل اپنے منصوبہ سے آگاہ کیا تھا۔باقی وزراء اور جرنیلوں کو 18 مئی 1974ء کو پوکھراں (راجستھان) میں دھماکے کے بعد خبر ملی تھی۔اس دھماکے سے نہ صرف یہ کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک کے کلب کا چھٹا ممبر بن گیا۔بلکہ اس نے ایٹمی میدان میں ایک زبر دست پیش رفت حاصل کر لی اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نگہبان، چو دھری کچھ نہ کر سکے۔“2 66 یہ تھی بھارت کی خفیہ جارحانہ کارروائی جس سے بے خبر رکھنے کے لئے بھارت کے ازلی ایجنٹ، موقع پرست اور طالع آزما احراری ملا یکا یک میدان میں آگیا اور ایک خونی سکیم تیار کر کے خود ہی 29 مئی 1974ء کو نشتر کالج کے طلباء کے ذریعہ ایک ہنگامہ کھڑا کیا اور پھر اپنے خبث باطن سے اسے احمدی نوجوانوں کے جبر و تشدد کا نام دے کر اخباری رپورٹروں کو پر افتر بیانات دے کر اگلے ہی دن پورے ملک میں جماعت احمدیہ کے خلاف پر تشد د فسادات کے شعلے بلند کر دیئے اس طرح پاکستان دشمن صحافت نے ملا کے مفتریات کو پوری طرح کوریج دے کر اہل پاکستان کی توجہ بھارت کے خفیہ دھماکہ سے منعطف کر کے مظلوم اور بے بس پاکستانی احمدیوں کی طرف کر دی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام مخالف احمدیت و پاکستان عناصر جماعت احمدیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور بھٹو حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ ” قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم قرار دیا جائے“۔حالانکہ ربوہ میں تو صرف ضرب خفیف کی واردات ہوئی جب کہ ملک کے ہر حصہ میں مذہب کے نام پر قتل وغارت کا بازار گرم تھا اور