مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 322
322 اکتیسویں فصل وزیر اعظم پاکستان کا حیرت انگیز اعتراف واقعہ ربوہ کا تعلق بیرونی استعمار سے ہے اب آخر میں فقط یہ بتانا مقصود ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ اس دور کے وزیر اعظم پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے شاہ فیصل اور علماء یا عوام کے دباؤ میں نیشنل اسمبلی سے کیا فیصلہ کرایا ، یہ حقیقت ہے کہ ان کے نزدیک بھی احراری مطالبہ کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا خوفناک سیاسی ناٹک تھا جو بیرونی استعمار کے ایجنٹوں نے رچایا تھا۔جس کا مقصد بیک وقت پاکستان کے جہاد میں شامل مذہبی جماعت، جماعت احمدیہ اور مملکت پاکستان پر ضرب کاری لگانا تھا۔اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان مسٹر بھٹو نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات پر سانحہ ربوہ سے ایک ماہ پیشتر ایک خصوصی انٹرویو میں قبل از وقت بتایا: روس بھارت کو جدید میزائلوں ، جنگی طیاروں اور بحریہ کی سامان کی صورت میں بڑے پیمانے پر امداد دے رہا ہے۔اس کے علاوہ بھارت خود بھی ہتھیاروں کی خریداری پر ڈھائی ارب خرچ کر رہا ہے۔۔۔۔جب آپ کے ارد گرد کے ممالک اپنے آپ کو ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں تو قدرتی طور پر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ 1" ضرور کچھ ہونے والا ہے۔“1 پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں (Intelligentia) کی یہ اطلاعات حرف بحرف درست ہوئیں اور مئی 1974ء کے تیسرے ہفتہ میں بھارت نے پوکھراں (راجستھان) میں پہلا ایٹمی دھما کہ کیا جس کو اس درجہ مخفی رکھا گیا کہ امریکہ ، چین اور یورپ تو رہا ایک طرف خود بھارت کے سیاسی حلقوں بلکہ اکثر بھارتی سائنسدانوں تک بھی اس راز سر بستہ کی بھنک تک نہیں پہنچی۔چنانچہ جناب زاہد ملک صاحب اپنی کتاب ”ڈاکٹر عبد القدیر خاں اور اسلامی بم “ کے صفحہ 179 پر رقم طراز ہیں۔چین کے جون 1967ء میں چھٹے دھماکے سے بہت پہلے بھارت ایٹم بم بنانے کا حتمی فیصلہ کر چکا تھا۔اور بھارت کی نیوکلیائی اہلیت کے فوجی استعمال کی طرف جانے کا فیصلہ لال بہادر شاستری نے کیا تھا۔لیکن ان دنوں کمیشن کے چیئر مین سارا بھائی کی زیادہ توجہ خلائی پروگرام پر مرکوز تھی۔البتہ 1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد مسز اندرا گاندھی نے بھارت کی سیاسی برتری کو دیر پا بنانے کے لئے ایٹمی طاقت