مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 321
321 اجتماعی زندگی اور قومی سیاست کو جن چیزوں نے سب سے بڑھ کر گندا کیا ہے ، ان میں ایک امیدواری اور پارٹی ٹکٹ کا طریقہ ہے۔3 فرقہ پرست علماء ان احادیث سے پوری طرح واقف تھے۔ان کا اپنے مدرسوں میں درس دیتے چلے آرہے تھے اور کتابوں میں عہدہ طلبی کی لعنت سے بچنے کی تلقین کرتے آرہے تھے۔مسٹر بھٹو اور ان کی نئی پارٹی ایک سیاسی پارٹی کے طور پر مطلع سیاست پر ابھری۔اس نے ان حدیثوں کو دیکھانہ پڑھا۔اس کا درس دیانہ کسی تقریر و تحریر میں ان کا حوالہ دیا مگر پاکستانی عوام یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ ختم نبوت کے نام نہاد محافظ علماء نے محض اقتدار کی ہوس میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس حدیث ردی کی ٹھوکری میں پھینک دی۔الہذا احمدیوں کا دینی فرض تھا کہ وہ اس دنیا پرست طائفہ کو کسی صورت میں بھی ووٹ نہ دیں کیونکہ یہ عشق رسول عربی کے منافی تھا اور ایسا اقدام جذبہ غیرت رسول پر ڈاکہ ڈالنے اور روح اسلام کو کچلنے کے مترادف تھا جس کا تصور کوئی احمدی ہر گز نہیں کر سکتا تھا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے تیرے منہ کی ہی کی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے حواشی: 1 ” قومی ڈائجسٹ“ جولائی 2008ء صفحہ 24-23۔2 مرتبہ احمد حسین کمال ناظم مرکزی دفتر علماء اسلام بیرون لوہاری دروازہ ملتان چوک رنگ محل لاہور۔3 " جماعت اسلامی کی انتخابی جد و جہد۔اس کے مقاصد اور دو طریق کار "صفحہ 7 شعبہ نشر و اشاعت جماعت اسلامی پاکستان۔