مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 22
22 کار فرما ہے جو چودہ صدیوں پر محیط ہے اور اپنے دامن میں مزدیکہ (قدیم اشتراکی مذہب ) بابیت (مزد کیہ کا ماڈرن روپ ) اور مارکسزم کو سمیٹے ہوئے ہے اور جسے بالشویکی روس کے عالمی منصوبوں نے پروان چڑھایا ہے۔پاکستان کے ایک اہل قلم جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب فتنہ سوشلزم کا تذکرہ کرتے ہوئے محمد تحریر فرماتے ہیں: سوشلزم فتنہ نہایت برق رفتاری کے ساتھ اٹھا اور اٹھارھویں صدی کی لائی ہوئی ظلم پر مبنی سرمایہ دارانہ معیشت کی تباہ کاریوں کے خلاف عالمی انقلاب کی صورت میں نمودار ہو ا۔کارل مارکس اور اینجلز کے افکار اور لینن واسٹالن کے عملی اقدام سے بر سیل بے پناہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا تھا۔سب سے پہلے وہ دین و مذہب کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے دریے تھا، کیونکہ پیروان مذہب اس نوزائیدہ اشتراکی مذہب کی راہ میں حائل تھے۔روس کی ملحقہ مسلم ریاستوں کو زیر وزبر کرنے کے بعد وشلزم کا یہ سیلاب ہندوستان کے اندر داخل ہو گیا۔اگرچہ اس وقت برطانوی سامراج نے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن، زبان و ثقافت اور اقدار حیات کو بڑی حد تک اپنے کلچر میں تحلیل کر کے اپنی استعماری گرفت کو مضبوط کر لیا تھالیکن اشتراکیت کے مقابلے میں اس کی گرفت کمزور ہوتی جارہی تھی۔یہ فتنہ مسلمانوں پر 1857ء کے ابتلاء سے بڑھ کر تباہ کن اور ہلاکت خیز تھا۔“13 اور احرار اور اُن کا مطالبہ اقلیت اسی فتنہ کی کوکھ سے پیدا ہوا جیسا کہ آئندہ صفحات سے بالبد اہت ثابت ہو جائے گا۔قدیم اشتراکیت کی ارتقائی تاریخ تاریخ عالم سے پتہ چلتا ہے کہ اشتراکیت اور سوشلسٹ نظام کا تصور پہلی بار افلاطون (327-427 ق م) نے اپنی کتاب ”Plato Republic ریاست“ میں پیش کیا جو صرف حکومت اور سپاہیوں تک محدود تھا کہ وہ سب ایک جگہ ایک سا کھانا کھائیں اور ایک سا کپڑا پہنیں۔افلاطون نے اشتراک املاک کے ساتھ ساتھ اشتراک ازواج کی بھی حمایت کی اور کہا کہ حکمرانوں کا کام ہے کہ مقررہ اوقات پر تندرست نوجوان مرد عورتوں کو یکجا کر دیں اور ان کے اختلاط سے جو اولاد پید اہو ، اسے اس کا علم ہی نہ ہو کہ اس کے والدین کون ہیں۔بچوں کو پیدا ہوتے ہی ریاست ماؤں سے لیکر اپنے آغوش میں پرورش