مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 21 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 21

21 9" 5 نومبر 1967ء کو انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل کی دعوت استقبالیہ میں بتایا۔”اسلام اور سوشلزم میں انسان کی معاشی زندگی سے متعلق قدریں مشترک ہیں۔اگر ہم انہیں اپنا لیں تو ہماری بہت سی تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔تو ان ملک گیر طوفانی دوروں کے بعد بھٹو صاحب نے 7 نومبر 1967ء کو لاہور میں پیپلز پارٹی کا با قاعدہ اعلان کیا اور اپنے باطنی عقیدہ کے راز کو ایک بار پھر فاش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ” میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام اور سوشلزم کے معاشی نظام میں زیادہ فرق نہیں ہے۔10 ازاں بعد انہوں نے قصور کے ایک عوامی عظیم اجتماع میں پہلی بار یہ نعرہ بلند کیا کہ پیپلز پارٹی بیک وقت اسلام، جمہوریت اور سوشلزم کی مبلغ اور علمبر دار ہو گی۔“11 اسی نعرہ کے مطابق منشور پاکستان پیپلز پارٹی کے اختتامیہ میں اس پارٹی کے حسب ذیل چار بنیادی اصول درج ہیں جو اسکی اساس تھے۔یعنی ”اسلام ہمارا دین ہے۔جمہوریت ہماری سیاست ہے۔سوشلزم ہماری معیشت ہے۔طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔12 منشور میں اسلام کے بر عکس خالق کائنات کی بجائے عوام کو طاقت کا سر چشمہ قرار دینے سے اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیا کہ بھٹو اور ان کی سوشلسٹ پارٹی کا خدا تعالیٰ پر ہر گز کوئی ایمان نہیں اور ان کی پوری سیاست عوامی خواہشات کے تابع ہو گی اور جمہوریت کے پر دہ میں عوامی اکثریت ہی کو ترجیح دے گی خواہ وہ قرآن مجید کے کس درجہ منافی ہو۔حالانکہ قرآن کا واضح نظریہ ہے: وَإِنْ تُطِعْ أَكْفَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ“ (الانعام۔117) اگر تو زمین میں اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تمہیں اللہ سے گمراہ کر دیں گے۔پھر فرمایا: قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ۔(سبا-14) میرے شکور بندے قلیل یعنی اقلیت میں ہوتے ہیں۔یہ محض اتفاق کا کرشمہ نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف احراری مطالبہ کی پذیرائی جس فرعون وقت نے کی وہ پکا کمیونسٹ اور سوشلسٹ تھا، بلکہ اس کے بعد واقعات و علل کا ایک لمبا سلسلہ