مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 295
295 9" کو ایسا آئین دیا ہے جس میں ختم نبوت کے مسئلہ کو کسی حد تک حل کرنے کے لئے قدم اٹھایا گیا ہے۔آپ نے کہا کہ اب آئین کی رو سے کوئی منکر ختم نبوت نہ ملک کا صدر بن سکتا ہے نہ وزیر اعظم۔اس شق سے قادیانیوں کے اقتدار (میں) آنے کی تمام آرزوؤں پر پانی پھر گیا ہے۔بالکل یہی نقطہ نگاہ مشہور دیوبندی محمد تقی عثمانی صاحب سابق جسٹس شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ہے۔چنانچہ آپ 1973ء کے متفقہ آئین کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں: دفعہ نمبر 44 ذیلی فقرہ نمبر 2 میں پچھلے تمام دساتیر کی طرح صدر مملکت کے لئے مسلمان ہونے کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔دفعہ نمبر 94 ذیلی فقرہ نمبر 2 وزیر اعظم کے لئے بھی مسلمان ہو نا ضروری قرار دیا گیا ہے۔یہ شرط بھی پہلی بار پاکستان کے دستور میں شامل کی گئی ہے اور اس کا اضافہ ، خیر مقدم اور مبارک باد کے لائق ہے۔تیسرے شیڈول میں صدر اور وزیر اعظم دونوں عہدوں کے حلف نامہ میں مسلمان ہونے کے اقرار کے ساتھ یہ الفاظ بھی شامل ہیں: میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ایک مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے ایک ہونے پر، اللہ کی کتابوں پر ، قرآن پر جو ، ان میں سے آخری کتاب ہے۔آخری نبی ہونے کی حیثیت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر اور اس بات پر کہ آپ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہو سکتا، یوم حساب پر اور قرآن و سنت کی تمام تعلیمات اور ضروریات پر ایمان رکھتا ہوں۔“ ان جملوں میں ایک صحیح العقیدہ مسلمان کی پوری تعریف آگئی ہے۔دستور میں اس تعریف کی شمولیت اس لئے ضروری تھی کہ اس کے بغیر کوئی بھی شخص، خواہ کتنے کافرانہ عقائد رکھتا ہو، مسلمانوں جیسا نام رکھ کر اسلامی مملکت کے ان اہم ترین عہدوں پر فائز ہو سکتا تھا۔حلف نامہ میں مسلمان کی یہ تعریف شامل ہونے کے بعد یہ خطرہ کم ہو گیا ہے اور جب تک کوئی شخص کھلی منافقت سے کام نہ لے، کسی کافرانہ عقیدے کے ساتھ صدارت یا وزارت عظمی کے منصب تک نہیں پہنچ سکتا۔بنیادی اسلامی عقائد کی توضیح کا یہ اعزاز بھی پاکستان کے اس دستور کو پہلی بار حاصل ہوا ہے