مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 296
296 ور پچھلے کسی دستور میں یہ توضیح موجود نہیں تھی۔10 بھٹو حکومت اور احرار کا متحدہ محاذ مخالفت ثابت ہوا کہ یہ جنگ زرگری تھی جس میں مسٹر بھٹو آئین 1973ء کی تشکیل کے وقت سے عقیدۃ احراری ملاؤں کے سو فیصدی ہم نوا تھے اور احمدیوں کو منکر ختم نبوت یقین کرتے تھے اور جماعت احمدیہ کو اپنے اقتدار کا سیاسی حریف سمجھ کر اسے کچل دینا چاہتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ 7 ستمبر 1974ء کی قرار داد اسمبلی اور ان کی وضاحتی تقریر کے صرف چند ہفتہ بعد ، پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر قتل وغارت اور دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا گیا جس پر پاکستان کے قدیم اور جری صحافی جناب ثاقب زیر وی تڑپ اٹھے اور آپ نے اپنے رسالہ ”لاہور “ (10 مارچ 1975ء) کے خصوصی اداریہ میں بھٹو صاحب کی اسمبلی میں وضاحتی تقریر کے الفاظ دے کر لکھا: ارباب اختیار واقتدار کی مصلحت اندیشیاں یا شومئی استحکام پاکستان کہ ابھی اس تقریر دلپذیر کی گونج وطن عزیز کی فضاؤں میں سنائی دے ہی رہی تھی کہ پنجاب کے ایک ڈویژنل صدر مقام سرگودھا میں اس کی روح کا وہ مذاق اڑایا گیا اور وہ ذلیل ترین بے حرمتی کی گئی کہ شرافت و انصاف آج تک اس غارت گری اور اس تہذیب سوزی کی کوئی موثر اور قابل یقین تاویل نہیں کر پائے۔یعنی تقریر کے بعد ٹھیک اٹھا ئیسویں دن 5 اکتوبر 1974ء کو ایک فتنہ ساز کی خود تراشیدہ خراشوں پر اشتعال دلا کر جماعت احمدیہ کے ارکان کے 34 مکان اور گیارہ دو کا نہیں دن دہاڑے لوٹی، اجاڑی اور جلا کر راکھ بنادی گئیں۔آگ اور خون کی یہ ہولی (جس کا اعتراف دبے الفاظ میں خود انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے بھی کیا ہے۔ملاحظہ ہو صفحہ 9) پوری دیدہ دلیری، ڈھٹائی بلکہ بے حیائی سے نظم و نسق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کی کھیلی گئی اور اس دن کھیلی گئی جس دن پنجاب کے سب سے بڑے وزیر اور ان کے معتمد ترین وزیر صغیر بھی وہاں موجود تھے اور جب ڈویژن کی پولیس کا بیشتر حصہ بھی ان کے جلوس کی شوکت کو دوبالا کرنے اور ان کے جلسہ کی رونق بڑھانے کے لئے شہر میں موجو د تھا۔پاکستان کے اس معزز و محب وطن طبقے کے ارکان کی املاک اور اثاثوں کو دن کے آٹھ بجے سے لے کر شام کے چار بجے تک نظم و نسق کے تمام ذمہ داروں کی موجودگی میں لوٹنے کے بعد جلا کر راکھ بنا دیا گیا۔لیکن