مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 265 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 265

265 موازنہ مذاہب کے سکالرز جانتے ہیں کہ ارض و سماء کے انادی (ازلی) ہونے کا عقیدہ صرف آریہ دھرم کی میتھالوجی کا جزولاینفک نہیں بلکہ کارل مارکس اور دوسرے سوشلسٹ لیڈر جو پکے دہر یہ تھے، بلا استثناء اسی خیال کے علمبر دار رہے اور اسی بناء پر انہوں نے مذہب کو افیون قرار دے کر اسے صفحہ ہستی سے نابود کرنے میں اپنی تمام تر صلاحتیں اور قوتیں وقف کر دیں۔بابیت چونکہ قدیم وجدید اشتراکیت ہی کے امتزاج کا نام ہے اس لئے سر اقبال نے بابیوں اور بہایوں کی ہم نوائی میں اسلامی تصور قیامت پر فریب کی پھبتی کسی اور نہایت بے باکی اور بے حجابی سے اعلان کیا۔کہاں کا آنا کہاں کا جانا فریب ہے امتیاز عقبیٰ نمود ہر شی میں ہے ہماری کوئی ہمارا وطن نہیں ہے ”علامہ“ اس فتویٰ پر اظہار ندامت کرنے کی بجائے اور بھی زیادہ شوخ ہو گئے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا۔عیاں ستارے، ہویدا فلک، زمیں پیدا تری خدائی تو پیدا ہے تو نہیں پیدا؟ مشہور بابی و بہائی مورخ ڈاکٹر ای جی براؤن (Adward Dranville Brown) کی وفات پر یہ قطعہ تاریخ کہا جو ان کی بابیت و بہائیت سے شیفتگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔نازش اہل کمال ای جی براؤن فیض او در مغرب و مشرق عجم مغرب اندر ماتم اوسینه چاک از فراق اودل مشرق دونیم تا به فردوس بریں ماوی گرفت گفت باتف ذالك الفوز العظيم اسی طرح بابی و بہائی کسی مسیح و مہدی کی آمد کے قائل نہیں۔بدائع الآثار جلد 1 (سفر نامہ عبد البہاء) صفحہ 23 میں لکھا ہے :-