مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 266
266 ” دوستان غرب عرض کردند در خصوص غذا با حباء امریکہ دستورالعمل عنایت شود فرمودند امداخله در طعام جسمانی آنها نمی کنیم “ عبد البہاء سے بعض یورپین دوستوں نے عرض کیا کہ کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق امریکن دوستوں کے لئے کوئی دستورالعمل عنایت کیا جائے تو عبد البہاء نے فرمایا کہ ہم ان لوگوں کے جسمانی کھانے پینے میں کوئی دخل نہیں دیتے (یعنی ہر شخص جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیئے ) اقدس میں بہاء اللہ نے لکھا ہے کہ a-EOaa CaOUN EOásaç کہ اے اہل بہاء نمازوں میں شعر پڑھنا تمہاری نماز کو نہیں توڑے گا۔یہی نہیں بہائیوں کے عبادت خانہ جسے وہ ”مشرق الاذکار “ سے موسوم کرتے ہیں، گانے بجانے کا سامان رکھنا ضروری ہے۔چنانچہ بدائع الآثار جلد 1 صفحہ 352 میں لکھا ہے کہ عبد البہاء نے یہ ہدایت دی که از لوازم مشرق الاذکار داخل مشرق الاذکار از غنون و غرفات خواہد بود یعنی مشرق الاذکار کے لوازم میں یہ بھی ہے کہ مشرق الاذکار میں اونچی جگہیں بنائی جائیں جن پر گانے بجانے کا سامان انگریزی باجہ وغیرہ بھی رکھا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ عبد البہاء کے سفر یورپ و امریکہ میں پیانو وغیرہ سے خوب کام لیا جاتا تھا اور فن موسیقی کے ماہر لائے جاتے اور راگ ورنگ کی محفلیں برپا ہو تیں۔7 اس کے مطابق علامہ مشرق راگ ورنگ کو اپنا دین وایمان سمجھتے تھے چنانچہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں مجھے راگ کو چھوڑو اقبال راگ ہے دین مرا۔راگ ہے ایمان مر 81 اس باب میں ابوالکلام آزاد بھی اقبال کے ہم مشرب تھے۔چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ :- اس بات کی عام شہرت ہو گئی ہے کہ اسلام کا دینی مزاج فنون لطیفہ کے خلاف ہے اور موسیقی محرمات شرعیہ میں داخل ہے۔حالانکہ اس کی اصلیت اس سے کچھ زیادہ نہیں کہ فقہاء نے سد وسائل کے خیال سے اس بارے میں تشدد کیا اور یہ تشدد بھی باب قضا سے تھا، نہ کہ باب تشریع سے “و بلاشبہ اقبال ”علامہ“ بھی تھے اور ”شاعر مشرق“ بھی مگر ان کی شاعری کی روح بابیت واشتراکیت میں مضمر تھی جو آخری عمر میں نقطۂ معراج تک پہنچ گئی۔باقی جو دوسرے رنگارنگ کے مضامین ان کے شعری کلام میں پائے جاتے ہیں ، وہ اس قرآنی آیت کی تصویر ہیں۔أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ