مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 264 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 264

264 اکیسویں فصل مذہبی لیڈروں کی سیاست کا ذکر حدیث میں یہ حیرت انگیز امر اسلام کی صداقت کا چمکتا ہوا نشان ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے صدیوں قبل یہ خبر دی کہ آپ کی امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب اس پر آفات و مصائب کا بادل چھا جائے گا اور وہ اپنی رہنمائی کے لئے اپنے مذہبی لیڈروں کے پاس جائیں گے مگر ان کی سیاست و قیادت جنگل کے ان جانوروں سے مشابہ ہو گی جو دوسروں کے اشارہ پر رقص کرتے اور نقالی کر سکتے ہیں یا وہ نجاست خور ہیں۔اپنے حلیف پر جارحانہ حملہ کرتے ہیں اور اپنی بھوک مٹانے کے لئے اپنے بچوں ہی کو چٹ کر جاتے ہیں اور کھیت کو ویران اور برباد کر دینا ان کی ناپاک سرشت اور خصلت میں داخل ہے۔آنحضرت صلی اللی علم کی اس پر اسرار حدیث کے الفاظ یہ تھے۔1" تكون في امتى فزعة فيصير الناس الى علماء هم فاذا هم قردة وخنازير یعنی میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا۔لوگ اپنے علماء ( دینی رہنما) کے پاس بغرض راہ نمائی جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سوروں کی طرح پائیں گے۔آنحضرت صلی اللہ ملک کے اس بلیغ استعارہ کی حقیقت برٹش انڈیا کے آخری دور میں خوب بے نقاب ہو گئی جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کے کٹھ پتلی راشٹرپتی کو شو بوائے 2 کا نام دیا اور انجمن حزب الاحناف لاہور کے بانی اور مسجد وزیر خاں کے خطیب ابو محمد سید دیدار علی شاہ 3 نے اقبال صاحب کے صریح طور پر کا فرو فاسق ہونے کا فتویٰ دیا۔جس کا مکمل متن ان کے فرزند جناب جسٹس جاوید اقبال صاحب نے اپنی کتاب ”زندہ رود “ جلد 2 صفحہ 289-290 پر ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کر دیا ہے۔سر اقبال کے جن اشعار پر فتویٰ دیا گیا، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں۔”شاعر مشرق سورج کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو زائیدگان نور کا ہے تاجدار تو نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری آزاد قید اول وآخر ضیاء تری