مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 189 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 189

189 ނ نیز مسلم نمائندوں کو برطانوی سامراج کا گماشتہ قرار دیتے ہوئے یہ گوہر افشانی کی کہ کانفرنس کے ہندوستانی ممبروں میں سے بڑی اکثریت زیادہ تر ارادہ کچھ بے ارادہ، اس سرکاری چال کا ساتھ دے رہی تھی۔اور یہ مجمع تھا بھی نرالا۔ان میں کون تھا جو اپنی ذات کے سوا اور کسی کا نمائندہ ہو۔بعض ان میں سے ضرور قابل اور معزز لوگ تھے اور بہت سے ایسے تھے جن کے متعلق یہ بھی نہیں کہا جاسکتا۔سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے یہ لوگ بہ حیثیت مجموعی ہندوستان کے سب سے زیادہ ترقی دشمن عناصر کے نمائندے تھے اور ایسے رجعت پسند اور تغیر دشمن کہ ہمارے ہندوستانی لبرل تک، جو یہاں اس درجہ محتاط اور معتدل لوگ سمجھے جاتے ہیں، وہاں ان کے مقابلہ میں ترقی خواہ کی حیثیت سے چمکتے رہے ! یہ لوگ ہمارے ملک کے ان اہل غرض گروہوں کی نمائندگی کر رہے تھے جن کا مفاد بر طانوی سامراج سے وابستہ ہے اور اپنی غرضوں کی تکمیل اور تحفظ کے لیے یہ اسی سامراج کا منہ تکتے ہیں۔سب ممتاز نمائندگی مختلف اقلیتوں اور اکثریتوں کی طرف سے فرقہ وارانہ مسئلہ کے متعلق تھی، ان میں اونچے طبقہ کے کچھ لوگ تھے جو کسی کی بات نہیں مانتے اور جن کے متعلق مشہور تھا کہ آپس میں بھی متفق نہیں ہو سکتے تھے۔سیاسی لحاظ سے یہ سب کٹر ترقی دشمن تھے اور ان کا مقصد بس یہ تھا کہ کچھ فرقہ داری فائدہ حاصل کر لیں، چاہے اس میں ملک کی سیاسی ترقی کو یکسر ہاتھ سے دینا ہی کیوں نہ پڑے۔چنانچہ انہوں نے صاف اعلان ہی کر دیا تھا کہ کسی ایسی کارروائی پر جس سے ملک کو کچھ اور سیاسی آزادی ملے ، یہ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ان کے فرقہ وارانہ مطالبات پورے نہ ہو جائیں۔کیسانر الا نظارہ تھا! اور کیسی تکلیف دہ وضاحت سے یہ بات روشن ہوتی تھی کہ ایک محکوم قوم کس قدر نیچے جا سکتی ہے اور کس طرح اسے سامراجی بساط کا مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ راجوں، مہاراجوں، لاٹ صاحبوں، سروں اور بالقائہم، کا یہ انبوہ ہندوستانی قوم کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا تھا۔یہ بھی سچ ہے کہ گول میز کانفرنس کے اراکین کو برطانوی حکومت نے نامز د کیا تھا اور اپنے نقطہ نظر سے واقعی خوب انتخاب کیا تھا۔یہ سب صحیح، مگر پھر بھی اس بات سے کہ بر طانوی حکام ہمیں یوں برت سکتے اور اپنے کام میں لا سکتے ہیں، ہماری قوم کی کمزوری ظاہر ہوتی تھی۔اور