مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 188 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 188

188 which will satisfy the aspirations of India, to go back and join the rest? Is that what you want? Because what other position will they occupy? What will be the answer? I want you to consider the gravity of it, a gravity which was emphasized by previous speaker۔You may, of course, argue it as long as you like۔7 کانگرس کی مسلمانوں کے خلاف معاندانہ چال راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس میں شامل مسلم زعماء کے مقابل کا نگر سی ہائی کمان اور دوسرے تمام لیڈر سرے سے برٹش انڈیا کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ملکی قانون میں مراعات دینے کے سراسر خلاف تھے اور ان کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ برطانوی حکومت فی الفور ملک کی باگ ڈور ہند و کانگرس کو سونپ دے۔کانگرس خود اقلیتوں سے نبٹ لے گی اور جو چاہے گی ان کے حقوق کی نسبت فیصلہ کرے گی۔چنانچہ پنڈت نہرو نے گول میز کانفرنس کی کارروائی کا دل کھول کر مذاق اڑایا اور لکھا۔”گول میز کانفرنس ختم ہو رہی تھی اور اس کے فیصلوں کی بڑی دھوم دھام تھی۔ہمیں اس پر ہنسی آتی تھی اور شاید اس ہنسی میں کسی قدر حقارت بھی شامل تھی۔یہ ساری تقریریں اور بحثیں بالکل بے کار اور حقیقت سے خالی معلوم ہوتی تھیں۔جناب نہر وصاحب نے گول میز کانفرنس کے بارے میں کانگریس کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔8" ”گاندھی جی لنڈن گول میز کانفرنس میں کانگرس کے تنہا نمائیندہ کی حیثیت سے گئے تھے۔۔۔ہم گول میز کانفرنس میں کچھ اس لئے تو شرکت نہیں کر رہے تھے کہ جاکر دستور ملکی کی ضمنی تفصیلات (مثلاً مسلم اقلیت کے حقوق۔ناقل ) سے متعلق وہ بحثیں چھیڑیں جو کبھی ختم ہی ہونے میں نہ آئیں۔اس وقت ان تفصیلات میں ہمیں ذرا دلچسپی نہ تھی۔ان پر تو غور اسی وقت ہو سکتا تھا کہ برطانوی حکومت سے بنیادی معاملات پر کوئی سمجھوتا ہو جاتا۔اصل سوال یہ تھا کہ جمہوری ہند کو کتنی طاقت منتقل کرنی ہے۔تفصیلات کو طے کرنے اور انہیں قلمبند کرنے کا کام تو کوئی بھی قانون دان بعد کو کر سکتا تھا۔“