مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 190 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 190

190 پتہ چلتا تھا کہ ہمیں کس آسانی سے بہکایا جاسکتا ہے اور ایک سے دوسرے کی کوششوں کا کیسے کاٹ کرایا جا سکتا ہے۔ہمارے اونچے طبقہ کے لوگ ابھی تک سامراجی حکمرانوں کی ذہنیت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور انہیں کا کام کرتے ہیں۔کیا انہیں اس کی حقیقت نہیں دکھائی دیتی ؟ یا یہ بات ہے کہ اس کی حقیقت کو جانتے ہیں اور جان بوجھ کر اس لیے اسے قبول کرتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت اور آزادی کے قیام سے انہیں ڈر لگتا ہے۔؟ بہت ہی ٹھیک بات تھی کہ اغراض کے اس ہجوم میں سامراجی منصب داری، ،مالیاتی، صنعتی، مذہبی، فرقہ داری اغراض کے اس جمگھٹ میں، برطانوی ہند کے نما ئندوں کی سرداری عموماً آغا خاں کے حصہ میں آئی تھی۔اس لیے کہ اغراض کچھ نہ کچھ سب ہی ان کی ذات میں یکجا جمع ہیں۔ایک نسل سے زیادہ عرصہ سے یہ بر طانوی سامراج اور برطانوی حکمران طبقہ کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔رہتے سہتے بھی زیادہ تر انگلستان ہی میں ہیں۔یہ ہمارے حکمرانوں کے مفاد اور ان کے نقطہ نظر کو واقعی خوب سمجھ سکتے ہیں۔اگر گول میز کانفرنس میں سامراجی انگلستان کی طرف سے یہ آتے تو اس کے نہایت ہی قابل نما ئندہ ثابت ہوتے۔مگر ستم ظریفی یہ تھی کہ یہ ہندوستان کی نمائندگی فرمارہے تھے۔کا نفرنس میں ہمارا مقابل پلّہ بہت بھاری تھا اور ہمیں اس سے کوئی زیادہ توقع بھی نہ تھی۔پھر بھی اس کی کارروائی کو دیکھ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور گھن آتی تھی۔ہم قومی اور معاشی مسائل کی بھی سطح کو کھرچنے کی لغو اور جھوٹ موٹ کی کوششوں کو دیکھتے تھے۔، معاہدوں اور سازشوں اور چالوں کو دیکھتے تھے۔برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے ترقی دشمن حصہ سے اپنے بعض اہل وطن کا ساز باز دیکھتے تھے۔چھوٹے چھوٹے معاملات پر لامتناہی بک بک سنتے تھے۔دیکھتے تھے کہ اصلی معاملات کو کیسے جان بوجھ کر ٹالا جا رہا ہے اور ہمارے ہی آدمی برابر کس طرح اہل غرض اور خصوصاً بر طانوی سامراج کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔آپس کی جھک جھک دیکھتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ جشن اور دعوتیں اور باہمی مدح وثنا کا طوفان ! شروع سے آخر تک خدمتوں کی تلاش تھی، بڑی ہوں کہ چھوٹی، ہندووں کیلئے خدمتیں اور نشستیں،