مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 184 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 184

184 ہیں۔اس لئے یہاں صرف ایسا دستوری نظام ہی قابل عمل ہو سکتا ہے جو ان کے جداگانہ قومی تشخص یا حقوق کے تحفظ کا ضامن ہو۔1913ء میں ولایت علی بمبوق نے اخبار کامریڈ کے مزاحیہ کالم میں تحریر کیا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھنا چاہیے تا کہ شمالی ہندوستان مسلمانوں کو دیا جا سکے اور جنوبی ہندوستان ہندوؤں کو۔1917ء میں ڈاکٹر عبد الجبار خیری اور پر وفیسر عبد الستار خیری نے یورپ میں سٹاک ہوم کی سوشلسٹ انٹر نیشنل کا نفرنس کے دوران ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان کے ہر صوبہ کو خود مختاری کا حق دیا جانا چاہئے تاکہ مسلم اور ہندو اکثریتی صوبے علیحدہ علیحدہ وفاق قائم کر سکیں۔1920ء میں محمد عبدا لقادر بلگرامی نے اخبار ذوالقرنین بدایوں میں مہاتما گاندھی کے نام ایک خط شائع کیا جس میں تجویز پیش کی کہ ہندوستان کو مسلمانوں اور ہندوؤں میں تقسیم کر دینا چاہیئے۔اس خط میں صوبوں کے مختلف اضلاع میں ہند و مسلم آبادی کے تناسب کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔1921ء میں نادر علی، جو انگریزوں کے بڑے مداح تھے اور تحریک خلافت کی مخالفت میں سرگرم عمل رہے، نے حکومت بر طانیہ کو مشورہ دیا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تنازعوں کے حل کے لئے ہندوستان کی تقسیم لازمی ہے۔1923ء میں سردار گل محمد خان، صدر انجمن اسلامیہ ڈیرہ اسمعیل خان نے سر ڈیفنس برے کی زیر صدارت شمال مغربی سرحد کمیٹی کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور۔سے آگرہ تک کا علاقہ مسلمانوں کو اور آگرہ سے راس کماری تک کا علاقہ ہندوؤں کو دے دیا جائے اور دونوں قومیں آپس میں اپنی اپنی آبادیوں کا تبادلہ کر لیں۔1924ء میں مولانا حسرت موہانی نے تجویز پیش کی تھی کہ شمال مغرب کے مسلم اکثریتی صوبوں کو مدغم کر کے ایک صوبہ بنایا جائے اور اسے ہندوستان کے وفاقی نظام میں ایک وحدت کی پوزیشن حاصل ہو۔یہ تجویز نہرو کمیٹی نے رد کر دی تھی۔1924ء میں لالہ لاجپت رائے نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ہند و مسلم آبادی کے لحاظ سے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کر دی جائے اور پھر مغربی پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان اور مشرقی بنگال کے علاقے مسلمانوں کو دے دیئے جائیں اور ہندوستان کے باقی تمام صوبوں میں ہندو حکومتیں قائم کی جائیں۔مگر بعد میں لالہ