مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 185 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 185

185 لاجپت رائے مکر گئے اور کہا کہ انہوں نے ایسے کسی خیال کا اظہار نہیں کیا تھا۔1924ء میں اسٹالن (روسی آمر) نے کہا تھا کہ ہندوستان بظاہر ایک متحدہ ملک دکھائی دیتا ہے۔لیکن جب وہاں انقلاب آیا تو کئی اجنبی قومیں منطقہ شہود پر آجائیں گی۔1924ء میں مولانا محمد علی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ مسلمان اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں اور ہندوستان کا مسئلہ بین الا قوامی ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے قسطنطنیہ سے لے کر دہلی تک ایک کارے ڈور“ (رستہ کی شکل میں علاقے کا ٹکڑا) بنا دینی چاہئے۔1925ء میں دست شناس کیرو نے پیشین گوئی کی تھی کہ ہندوستان سے انگریزوں کو بالآخر نکلنا پڑے گا اور وہ مسلمانوں اور بدھ مت کے ماننے والوں میں برابر برابر تقسیم ہو جائے گا۔1928ء میں ”ایک ہندی مسلمان“ نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو ایسی ہی مختلف قومیں ہیں جیسے جرمن اور فرانسیسی اور چونکہ ان میں اتحاد ممکن نہیں، اس لئے ہندوستان کو ان میں تقسیم کر دینا چاہئے۔1928ء میں مرتضے احمد خان نے اخبار انقلاب میں مضامین کا ایک سلسلہ شائع کیا جس میں شمال مغرب کے اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک مسلم وطن کے قیام کی تجویز 3" پیش کی گئی۔“ انہی حقائق کی بنا پر تحریک پاکستان کے نامور لیڈر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست ایم اے ایچ اصفہانی نے ایڈیٹر پاکستان ٹائمز کے نام خط میں ڈنکے کی چوٹ لکھا۔4" ” اس بات سے بلا شبہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر اقبال کا فکر شاعر ی اور خطبات بھی اسی سمت میں اشارہ کرتے تھے۔لیکن یہ کہنا کہ وہ مسلم ریاست کے تصور کے خالق تھے ، تاریخ کو مسخ کرنا ہے۔“ اوائل 1934ء کا واقعہ ہے کہ لنڈن کے اخبار آبزرور (Observer) میں کیمرج یونیورسٹی کے پر وفیسر ایڈورڈ ٹامسن کا لکھا ہوا ایک مضمون سپر د اشاعت ہوا۔اس مضمون میں انہوں نے برسبیل تذکرہ اقبال کو پاکستانی اسکیم کا حامی لکھ دیا۔جس پر سر اقبال نے 4 مارچ1934ء کو پروفیسر ٹامسن کے نام خط لکھا جس میں کیمرج سے اٹھنے والی پاکستان اسکیم سے بریت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔”اپنے (مسلم لیگ) کے خطبے میں جو اسکیم میں نے پیش کی تھی، وہ ایک مسلم صوبے کے قیام کی ہے یعنی شمال مغربی ہند میں ایک ایسے صوبے کا قیام عمل میں آئے