مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 183 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 183

183 یکسر نظر انداز کر دیا گیا جو مسلمانان ہند کی وحدت ملی میں چھراگھونپنے کے مترادف تھا۔تاریخ مسخ کرنے کی سازش جناب جسٹس جاوید اقبال صاحب شریف الدین پیرزادہ کی کتاب ”ارتقائے پاکستان“ انگریزی کے صفحات 37 تا 120 کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں: بر صغیر میں فرقہ وارانہ مسئلہ یا اس کے شمال مغربی اور مشرقی خطوں میں مسلم اکثریت کی موجودگی بجائے خود ایسی حقیقتیں تھیں جو روز روشن کی طرح عیاں تھیں۔اس لئے اقبال سے پیشتر بھی بعض شخصیتوں کو ان کا احساس تھا اور فرقہ وارانہ مسئلے کے حل کے طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہندوستان کی تقسیم کے متعلق بسا اوقات خیالات کا اظہار کیا جاتا یا تجاویز پیش کی جاتی تھیں۔شریف الدین پیرزادہ نے اپنی انگریزی تصنیف ” ارتقائے پاکستان میں سرسید ، حالی اور عبد الحلیم شرر ( دونوں سرسید کے معتقدین میں سے تھے) کے علاوہ ایسی انیس شخصیتوں کا ذکر کیا ہے ، جن کی کار گزاری کا اس مرحلہ پر جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔شریف الدین پیرزادہ کی تحقیق کے مطابق 1857ء میں جان برائیٹ نے برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان میں میں مختلف قومیں آباد ہیں جو ہیں مختلف زبانیں بولتی ہیں۔اس لئے انگریزوں کو ہندوستان سے نکلنے سے پیشتر وہاں پانچ یا چھ آزا دریاستیں قائم کرنی پڑیں گی۔1881ء میں جمال الدین افغانی نے وسطی ایشیا کے روسی مسلم علاقوں، افغانستان اور ہندوستان کے شمال مغرب میں مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک مسلم ری پبلک کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔1883ء میں ولفرڈ بلنٹ نے تجویز پیش کی کہ شمالی ہندوستان میں مسلم اور جنوبی ہندوستان میں ہندو حکومتیں قائم کر دی جائیں مگر ہر صوبہ میں انگریزی فوج موجود رہے۔1905ء میں وائسرائے لارڈ کرزن نے تقسیم بنگال کا نفاذ کیا تا کہ مشرقی بنگال کے پسماندہ مسلمان ترقی کر سکیں۔لیکن چونکہ بنگالی مسلمان سیاسی طور پر منظم نہ تھے ، اس لئے بنگالی ہندوؤں کے احتجاجی مظاہروں کے سبب تقسیم منسوخ کرنی پڑی۔1911ء میں سید امیر علی نے سر محمد شفیع کو خط لکھا تھا کہ ہندو اور مسلم دو علیحدہ قومیں