مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 174
174 کر سکتے ہیں۔سچی اور جھوٹی بات میں فرق کر کے وہ صحیح راہ تلاش کر سکتے ہیں۔اب مکمل سچائی یعنی اسلام ہم تک پہنچ گیا۔اب کسی نبی کی ضرورت نہ رہی۔اگر ہم نبوت کا سلسلہ ابھی تک جاری مان لیں تو پھر مختلف نبیوں پر ایمان کے باعث قوموں ملکوں پر اور انسانیت میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔پہلے تو ملک ملک ایک الگ دنیا تھی۔الگ الگ نبیوں کی ضرورت تھی۔اب جب دنیا سمٹ کر ایک کنبہ میں رہتی ہے تو نبوت کے مختلف دعویداروں کا آنا دنیا کو تقسیم بلا ضرورت کرنے سے کم نہ تھا۔رسول کریم کا لانبی بعدی کا ارشاد دنیا کے لئے رحمت کا پیغام اور انسانیت کیلئے خوش خبری تھی۔“ تاریخ اپنے تئیں دوہراتی ہے۔علامہ بلاذری کی معجم البلدان سے بالبداہت ثابت ہے کہ حر وراء مقام پر خوارج نے قرآنی آیت ” ان الحکم الا اللہ کی آڑ میں ہی امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کی خلافت کے خلاف فتنہ برپا کیا تھا۔1 مفکر احرار نے اس تمہید کے بعد سیاسی پیشوا جناب جواہر لعل نہرو کی خفیہ سکیم کا پردہ فاش کرتے ہوئے صاف لکھ ڈالا: قادیانی تحریک کی مخالفت سیاسی اور مذہبی دونوں وجوہات کی بناء پر تھی۔جس اسلامی جماعت نے مسلمانوں کو آزاد اور توانا قوم دیکھنے کا ارادہ کیا ہو، اسے سب سے پہلے اس جماعت سے ٹکرانا ناگزیر تھا۔اس جماعت کے اثر ورسوخ کو کم کئے بغیر آزادی کا تصور کرنا ممکن نہ تھا۔“2 ازاں بعد انہوں نے ”خدا سے انکار بھی مذہب کی شاخ ہے“ کے جلی عنوان سے اپنی دہریت پر اپنے ہاتھوں مہر تصدیق ثبت کر دی۔”مذہب کیا ہے، خدا کے متعلق ایک خاص تصور اور عقیدہ۔کوئی گروہ اس کا اقرار کر کے مذہبی ہے کوئی انکار کر کے۔منکر خدا بھی تو خدا کے متعلق سوچتا ہے۔وہ خدا کے اقراری کے خلاف ایسے ہی جذبات رکھتا ہے جیسے منکر خدا کے متعلق خدا کو ماننے والے۔پس نفی واثبات کی عملی دنیا میں بحث فضول ہے کیونکہ ذہنی اعتبار سے دونوں کے خیالات کا مرجع و مرکز خدا ہی ہے۔مفکر احرار نے ” تاریخ احرار کے آخر میں شہنشاہ اولین و آخرین خاتم النبیین حضرت محمد عربی 3"