مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 175 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 175

175 صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو کامریڈ“ کے نام سے یاد کیا ہے۔جس سے ہر عاشق رسول عربی کا دل مجروح اور جگر پاش پاش ہو جاتا ہے۔پھر تحریک پاکستان کا ذکر کر کے لکھا ہے: ا قتصادی مساوات کے بغیر ہندوستان میں امن اور آزادی ممکن نہیں۔یہ ملک غلام رہے گا۔اگر آزادی اور امن حاصل کرے گا تو سوشلزم کی بنیاد پر “ اور کتاب کا اختتام سوشلزم کی تبلیغ پر کرتے ہوئے لکھا: سرمایہ داری حقیقی اسلام کو کھا گئی۔سرمایہ داری ختم کر وگے تو اسلام زندہ ہو جائے گا۔“ تاریخ احرار کے دوسرے ایڈیشن (1968ء) میں ایک طرف مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی کا یہ اعتراف درج ہے کہ۔کانگرس کی محبت اور قربانی کا نتیجہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ ہندوستان کی حکومت انگریزی سرمایہ داروں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوستان کے سرمایہ داروں کے ہاتھ دے دی جائے۔“ پاکستان کے متعلق احراری سوشلسٹوں کا نظریہ دوسری طرف پاکستان کے خلاف احراری پالیسی بایں الفاظ واضح کی گئی ہے: ”پاکستان کے متعلق ہر روز ہم سے ہماری پوزیشن پوچھی جاتی ہے۔سچ یہ ہے کہ ایسے پاکستان کو ہم پلیدستان سمجھتے ہیں “ ہمیں اسلامی پروگرام کے باغی مگر نام نہاد مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔اسلام کے باغی پاکستان سے ہم اس ہندوستان کو پسند کریں گے جہاں نماز روزہ کی اجازت کے ساتھ اسلام کے باقی عدل وانصاف کے پروگرام کے مطابق نظام حکومت ہو گا۔یعنی ہر شخص کو حضرت رسول کریم صلی ﷺ ، صدیق اکبر اور فاروق اعظم کی زندگی کی پیروی میں محض ضروریات زندگی مہیا کی جائیں گی اور کسی کو کسی دوسرے پر سیاسی یا اقتصادی فوقیت نہ ہو گی۔جن لیگیوں اور کانگرسیوں کو سیاسی اور اقتصادی مُمساوات سے گھن آتی ہے، وہ سن لیں کہ وہ ہمارے دینی بھائی ہیں نہ وطنی بھائی۔وہ الله لٹیروں کا ذہن رکھتے ہیں۔ان کا اور احرار کا ساتھ نہیں نبھ سکتا۔