مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 173 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 173

173 اس لئے کہ خود علمائے مذہب انقلابی سپرٹ سے نا آشنا ہیں اور وہ اب تک مذہب کی اموی عباسی عقائد کے مطابق تشریح کر رہے ہیں۔تاہم کسی کی بے خبری یا کسی گروہ کا تعصب واقعات کو نہیں بدل سکتا ہے۔محمد رسول اللہ نئے دور کے انقلابی تھے۔درانتی اور کلہاڑا تو اب مزدوروں کی نشانی بنا لیکن جس نے سرمایہ داری پر پہلے کلہاڑا چلایا اور قومی امتیاز کے ان ریشوں کو کاٹ کر۔رکھ دیا جس نے انسان کو انسان سے علیحدہ کر دیا تھا۔صرف سرمایہ ہی طبقات پیدا نہیں کرتا بلکہ انسانوں میں گروہ بندی کرنے والے اور بھی محرکات ہیں۔ان سب کا بڑا ذریعہ مختلف نبیوں پر ایمان ہے۔قومیں خدا پر ایمان کے نزاع پر مختلف نہیں بلکہ مختلف نبیوں پر ایمان لانے کے باعث الگ الگ ہیں۔پہلے آمد ورفت کے وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر ملک ایک الگ دنیا تھی۔الگ الگ پیغمبروں کے ذریعے ہر ملک کی روحانی تربیت ضروری تھی۔ایک ملک میں بیٹھ کر سب ملکوں میں پیغام نہ پہنچایا جاسکتا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین مکمل ہوا۔آپ نے لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ) کا اعلان کر کے دنیا کو اتحاد کا مشردہ سنایا کہ آئندہ نبیوں کی بنا پر قوموں کی تربیت ختم ہو گئی۔آؤ ایک محکم دین کی طرف آؤ۔یہ سب کے حالات کے مطابق ہے۔اسلام تمہارے سارے عوارض کا مکمل نسخہ ہے۔زمانے نے دیکھ لیا کہ حضور کے بعد بتدریج دور دور کے ملک آمد ورفت کے سلسلوں میں آسانیوں کے باعث نزدیک تر ہوتے گئے۔اب تو دور دراز ملک ایک شہر کے محلوں سے بھی قریب معلوم ہونے لگے ہیں۔اس لئے ملک ملک کے لئے علیحدہ پیغامبر کی ضرورت نہ رہی تھی۔اب انسانی دماغ کافی نشو نما پا چکا تھا۔لوگ اپنا بھلا برا خود سمجھنے لگے۔اب ایک سچائی پیش کرنا کافی ہے۔باقی معاملہ لوگوں کی سمجھ پر چھوڑ نا کفایت کرتا ہے۔مذہب کی سچائی اب سمجھ سے بالا نہیں۔بلکہ تعصب کے باعث اسے قبول کرنے میں دقت ہے۔دنیا نے دیکھ لیا سرور کائنات کے آتے ہی اہل دنیا کی عقل اور علم نے حیرت انگیز ترقی کی۔محمد رسول اللہ کی نبوت کے معنے یہ تھے کہ اب انسانیت سن شعور کو پہنچ چکی ہے۔اب کسی سکول ماسٹر کی ضرورت نہیں۔۔۔۔جولوگ دنیا کے حالات کا مطالعہ