مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 167
167 سولہویں فصل جماعت احمدیہ کی تباہی کا منصوبہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور ان کے والد موتی لعل نہرو نے یورپ سے واپسی کے معا بعد سٹالین کے ایجنڈ ا پر عمل پیرا ہوتے ہوئے برٹش حکمرانوں سے مکمل آزادی کا مطالبہ کر دیا اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ملک گیر اور خفیہ منصوبہ کی زور شور سے تیاریاں شروع کر دیں۔اور اس کا آغاز لدھیانہ شہر سے کیا کیونکہ یہ شہر 1888 ء سے کانگرسی مولویوں کا مضبوط گڑھ تھا اور یہیں سے سرسید تحریک کے خلاف اور کانگرس کے حق میں ”نصرۃ الابرار“ کے نام سے فتاوی شائع ہوئے۔اور 22 دسمبر 1888ء کے اجلاس کانگرس الہ آباد میں تقسیم ہوئے۔”نصرۃ الابرار“ کے مرتب مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کے دادا مولوی محمد صاحب اور مولوی عبد العزیز تھے۔1 یہی لدھیانوی علماء تھے جنہوں نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر ”براہین احمدیہ “ کی پہلی چار جلدوں کی اشاعت پر سب سے پہلا فتویٰ کفر دیا تھا۔2 مولوی حبیب الرحمن صاحب کے اپنے ایک اقراری بیان کے مطابق وہ 1905ء میں کانگرس کے پر جوش ممبر بنے اور ٹھیک یہی وہ سال ہے جبکہ ابو الکلام آزاد صاحب بھی کانگرس میں شامل ہوئے۔اس طرح دونوں ”ہم پیالہ اور ہم نوالہ دوست بن گئے“۔ایک بار مولوی حبیب الرحمن صاحب نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنے ہاں دعوت چائے پر مدعو کیا اور نہایت ادب سے ان کی خدمت میں ” نصرت الابرار “ کا نسخہ پیش کیا تو انہوں نے مولوی صاحب کو مبارک باد دی۔مولوی حبیب الرحمٰن صاحب نے عرض کیا ”ہندوستان میں ہزاروں لیڈروں کو کانگرس تحریک نے جنم دیا لیکن میرے آباء واجداد خود کانگرس کے فونڈر (Founder) تھے۔“3 مولوی صاحب کے بیٹے عزیز الرحمن جامعی یہ واقعہ سپر د قر طاس کرنے کے بعد رقمطراز ہیں: " علماء لدھیانہ نے کانگریس کو مقبول بنانے میں جو رہنمائی کی تھی، وہ آج مسلمانان ہند کا ایک تاریخی سرمایہ ہے جس پر ہندوستانی مسلمان جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔علماء لدھیانہ کے فکر و عمل کی کامیابی کا اس سے بڑا ثبوت اب اور کیا ہو گا کہ آج علی گڑھ یونیورسٹی میں سرسید کی سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔4 مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کا بیان ہے کہ جب انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں 4"