مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 166
166 پندرھویں فصل پنڈت نہرو کا بمبئی میں جماعت احمدیہ کے خلاف بیان سٹالن نے 5 نومبر 1927ء کے طویل انٹر ویو کے دوران پنڈت جواہر لعل نہرو(نمائندہ کانگرس) کو براہ راست ہندوستانی پالیٹکس کے متعلق اور کیا ہدایات دیں اور انگریزوں کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو سوشلسٹ انقلاب سے پر کرنے کے معاملہ میں کن خطوط پر راہنمائی کی، اس بارے میں تو مستقبل کا مورخ ہی بتا سکے گا بشر طیکہ اسے ماسکو اور دہلی سے 1927ء کے کانگرس روس پیکٹ کا سراغ مل سکا۔مگر یہ ایک یقینی اور قطعی بات ہے کہ پنڈت جی نے سفر یورپ سے واپسی پر ہندوستان میں قدم رکھتے ہی بیان دیا کہ کانگرس کے سوراج کی کامیابی کے لئے جماعت احمدیہ کو تباہ و برباد کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔چنانچہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قادیان میں احراریوں کی کانفرنس 1934ء کے معابعد مسجد اقصی کے منبر پر خطبہ کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف فرمایا: ”ہماری جماعت کی مخالفت نہایت وسیع پیمانہ پر ہے اور سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک احمدیوں کو کمزور نہ کر دیا جائے یا احمدیوں اور حکومت میں لڑائی نہ کرادی جائے اسوقت تک ان کا قدم مضبوطی سے جم نہیں سکتا۔یہ صرف خیالی بات نہیں بلکہ خود مجھ سے آل انڈیا کانگرس کے ایک ذمہ دار آدمی نے کہا کہ پنڈت جواہر لعل نہر وجب یورپ کی سیاحت سے واپس تشریف لائے تو اسٹیشن پر ہی دوران گفتگو میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے دوران سیاحت میں محسوس کرایا گیا ہے کہ اگر ہندوستان میں کامیاب ہو نا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے پہلے احمد یہ جماعت کو چل دینا چاہئے۔“1 یہ ذمہ دار شخصیت جیسا کہ خود حضرت مصلح موعود نے چند ماہ بعد خطبہ جمعہ میں ہی انکشاف فرمایا، سید محمود صاحب سیکرٹری آل انڈیا نیشنل کانگرس تھے اور یہ بات انہوں نے خود حضور کو قادیان میں ایک ملاقات کے دوران بتائی تھی۔2 حواشی الفضل مورخہ 22 نومبر 1934ء صفحہ 10 ،کالم 1۔2 الفضل مورخہ 6 اگست 1935ء صفحہ 8۔