مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 168
168 داخلہ لیا تو ” مدرسہ میں اندرونی طور پر نہایت گہری سیاسی تنظیم اور تحریک چل رہی تھی جو میرے 5" جذبات کے عین مطابق تھی۔“5 المختصر لدھیانہ کے کانگرسی ملاؤں کی چالیس سالہ روایات کا تقاضا تھا کہ لدھیانہ ہی سے مکمل آزادی کے لیے پورے ملک میں راہ ہموار کی جائے چنانچہ ایسا ہی عمل میں آیا۔پنڈت نہرو کی مخالف احمدیت سکیم کو بروئے کار لانے کے لئے ملک بھر کے کا نگر سی ہندوؤں نے 1928ء میں ہی انڈر گراونڈ یہ خوفناک منصوبہ تیار کر لیا کہ جماعت احمدیہ کو تباہ و برباد کر کے صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے۔چنانچہ ایک مخلص احمدی وکیل میاں فضل کریم صاحب بی اے (علیگ) ایل ایل بی نے 7 نومبر 1928ء کو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا کہ حضور کو قبل اس کے ہندوؤں کی مخالفت اور بغض کے متعلق کافی علم ہے مگر کل ہی مجھے ایک مسلمان وکیل دوست سے ایک ایسے امر کے متعلق علم ہوا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہندوؤں نے Organized ہمارا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اس کی طرف اپنے عوام کو بھی توجہ دلا دلا کر تیار کر رہے ہیں۔خصوصیت سے گذشتہ ایک دو سال بعد موجودہ نہرورپورٹ کی ہماری طرف سے مخالفت نے انہیں آگ لگا دی ہے۔اس دوست نے مجھے بتلایا کہ ایک ہندو نے مجھے بتلایا ہے کہ احمدی ملکی ترقی میں ایک زبر دست روک ہیں۔اب ہم ان کو Crush کر کے چھوڑیں گے اور سارے ملک کے ہندوؤں نے یہ ٹھان لیا ہے اور اس کے لئے روپیہ کا بھی انتظام کیا جائے گا۔میں نے دوست سے دریافت کیا کہ وہ کس حیثیت کا انسان ہے تو انہوں نے بتلایا معمولی سا آدمی ہے جس سے یہ ظاہر ہے کہ عوام میں بھی ہماری مخالفت اور مقابلہ کی روح پھونکی جارہی ہے۔میں انشاء اللہ العزیز مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر وں گا۔مجھے تو یہ سن کر ایک پہلو سے خوشی ہوئی اور ایک پہلو سے فکر پیدا ہوئی۔خوشی تو اس لئے کہ ملک کی ایک زبر دست قوم بھی سلسلہ کی طاقت کو مان گئی ہے اور روز افزوں ترقی سے گھبرارہی ہے۔فکر اپنی کمزوریوں کا ہے کہ مقابلہ کی طاقت نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی قوت عطا کرے گا۔خادم کو دعاؤں میں یاد فرمائیں۔خاکسار فضل کریم۔“