مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 8
8 ایک اور شمارہ میں لکھا تھا۔”1857ء کے غدر کو 50 سال ہو گئے ہیں۔اب ہمیں ایک اور بغاوت کی ضرورت ہے۔آج ہم انگریزی سرکار کے خلاف ایک جنگ کا آغاز کر رہے ہیں۔ہمارا مقصد غدر ہے۔بغاوت برپا کرنا ہے۔ہمارا کام ہے غدر۔یہ غدر کہاں برپا ہو گا؟ ہندوستان میں۔وہ وقت دور نہیں جب رائفل اور خون، قلم اور اس کی روشنائی کی جگہ لے لے گا۔“15 غدر پارٹی کا ایک مقبول نعرہ تھا کہ ”اتحاد کی بنیاد سوشلزم“ اس پارٹی نے اس نعرہ کو عملی شکل دینے کیلئے جو سکیم تیار کی اس کے بعض اہم اور بنیادی نکات یہ تھے۔1۔ہندوستان کے اندر اور باہر سامراج دشمن طاقتوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنا اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا۔2۔اپنے مالی وسائل کی مضبوطی کے لئے ڈاکے ڈالنا۔3۔بم بنانا اور انہیں مناسب مواقع اور مقامات پر استعمال کرنا۔4۔ریلوے اور تار کا نظام تباہ کرنا۔5۔نوجوانوں کو غدر پارٹی میں شامل کر کے انہیں اسکی انقلابی سر گرمیوں کے لئے تیار کرنا۔6۔پولیس تھانوں اور سرکاری خزانوں کو لوٹنا اور وہاں سے اسلحہ اور پیسہ حاصل کرنا، تا مالی استحکام ہو۔دہلی میں بھارت ماتا سوسائٹی، بنگال میں ہندو پارٹیاں اور لندن میں انڈیا ہاؤس غدر پارٹی کے خفیہ مراکز تھے جو اس کی سازشوں کی تکمیل میں شب وروز مصروف رہتے تھے۔ہفت روزہ ”غدر “ نے ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ :- 1857ء میں ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے پہلا غدر ہوا تھا۔اب دوسرا غدر ہو رہا ہے۔اس لئے ہندوستان میں غدر بر پا کرنے کے لئے نڈر بہادر سپاہیوں کی ضرورت ہے۔16 رسالہ ”غدر “ مورخہ 20 نومبر 1914ء کے اردو ایڈیشن میں عثمانی حکومت کے ایک وزیر انور پاشا کی تقریر شائع ہوئی کہ :- ”یہی وہ وقت ہے جب ہندوستان میں غدر کا اعلان کر دیا جانا چاہئے۔انگریزوں