مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 9
9 کے میگزین لوٹ لئے جانے چاہیں اور انگریزوں کوموت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے۔ہندوستانیوں کی تعداد 32 کروڑ جبکہ ہندوستان میں انگریز فقط دولاکھ ہے۔ان انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے۔وہ جو مر کر اپنے وطن کو آزاد کرائے گا وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔“ پہلی جنگ عظیم (جون 1914ء تا ستمبر 1918ء) کے دوران غدر پارٹی کی خفیہ سرگرمیاں عروج تک پہنچ گئیں۔جرمنی عثمانی حکومت کا حلیف تھا۔برلن ہندوستانی انقلابیوں کا گڑھ بن گیا جہاں حکومت جرمنی کی مدد سے انڈیا برلن کمیٹی کی بنیادر کھی گئی۔کمیٹی کی درخواست پر حکومت جرمنی نے غدر پارٹی کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کرنا منظور کر لیا اور ساتھ ہی غدر پارٹی کی فوری مدد کے لئے قسط اول کے طور پر پانچ ہزار ریوالوروں کی پہلی کھیپ مہیا کر دی جسے ہندوستان تک پہنچانے کے لئے ایک جہاز دی ہنری ایس کرایہ پر حاصل کیا گیا اور کرایہ جرمنی حکومت ہی نے دیا۔لیکن یہ جہاز جب ہانگ کانگ کے ساحل پر پہنچا تو ایک جاپانی ڈاکٹر داؤس دیکر نے جہاز میں موجود اسلحہ کے بارہ میں مخبری کر دی اور جملہ معلومات برطانوی حکام کو فراہم کر دیں جس پر جہاز پر قبضہ کر لیا گیا۔جرمن حکومت نے (جس کا بادشاہ ولیم دوم تھا) ہندوستانی انقلابیوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ جرمنی یا کسی اور ملک میں ہندوستان کی ایک آزاد عبوری حکومت قائم کر لیں۔اس حکومت کو متعد د ممالک سے ہمدردی حاصل ہو جائے گی اور تقریباً آدھی دنیا اسے تسلیم کرلے گی۔17 کانگرس، غدر پارٹی اور دوسری باغیانہ تحریکوں کے اتفاق سے ایک عبوری حکومت قائم کر دی گئی جس کے سربراہ راجہ مہندر پرتاپ کو نامزد کیا گیا جنہوں نے ماسکو، نیپال اور ہندوستان میں وفود بھیجے۔حکومت کا وزیر داخلہ مولوی عبید اللہ سندھی کو بنایا گیا تا اس بغاوت کو اسلامی لبادہ پہنا کر مسلمان حکومتوں سے امداد حاصل کی جاسکے۔سندھی صاحب نے عرب اور ہندوستان کے دوستوں اور رشتہ داروں کو ریشمی رمالوں میں عبوری اور باغی حکومت سے متعلق خطوط لکھے جس میں بتایا کہ آزاد حکومت آخر کار مدینہ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنانا چاہتی ہے جہاں شہزادہ محمد حسن کو اس کی فوج کا جنرل انچیف مقرر کیا جائے گا اور اس کے دفاتر تہران، کابل اور قسطنطنیہ میں بھی قائم کئے جائیں گے۔اور وہاں فوج کی سر براہی خودسندھی صاحب کریں گے۔یہ سازش بہت جلد بے نقاب ہو گئی اور ریشمی رومال کی یہ ہند و باغیانہ تحریک دم توڑ گئی۔ابتداء میں کابل حکومت نے سوویٹ یونین کی بالشویک حکومت سے درخواست کی تھی کہ