مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 7 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 7

7 کو کبھی آزادی ملے گی تو یہاں ہندوراج قائم ہو گا۔11 پھر بدترین فرقہ پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوؤں کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف اکساتے ہوئے یہ تجویز پیش کی :- شلسٹوں گئیں۔”سوراج پارٹی کا اصول ہونا چاہئے کہ ہر ہندوستانی بچہ کو قومی رتن 12 دئے جائیں خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی۔اگر کوئی فرقہ ان کو لینے سے انکار کرے اور ملک میں دور نگی پھیلائے تو اس کی قانونی طور پر مخالفت کر دی جائے یا اس کو عرب کے ریگستان میں کھجور میں کھانے کے لئے بھیج دیا جائے۔ہمارے ہندوستان کے آم، کیلے اور نار نگیاں کھانے کا انہیں کوئی حق نہیں۔“13 بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوؤں اور ان کے ہم خیال سکھوں نے انٹر نیشنل سون سے عالمی سطح پر گٹھ جوڑ کیا اور انڈر گراؤنڈ بغاوت کی خوفناک تیاریاں غیر معمولی طور پر بڑھ 1905ء میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے مسلمانان بنگال کی بہبو دو ترقی کے لئے تقسیم بنگال کا اعلان کیا تو بنگال کے ہند وانارکسٹ ابھر کر سامنے آگئے جس میں کا نگر سی لیڈر جناب ابوالکلام آزاد نے انارکسٹوں کی بھر پور پشت پناہی کی اور بنگالی مسلمانوں کے خلاف نہایت افسوسناک کر دار ادا کیا۔1911ء میں انٹر نیشنل سوشلسٹ پارٹیوں کے گٹھ جوڑ سے ”ہندو سکھ غدر پارٹی کا قیام عمل میں آیا جس میں جناب آزاد بھی شامل ہو گئے۔اس پارٹی کے پیچھے امریکہ میں مقیم سوشلسٹ لیڈر سرگرم عمل تھے۔پارٹی کی مشیر خاص پولینڈ کی مشہور سوشلسٹ رہنما مسز گولڈ تھیں۔کینیڈا میں پناہ گزین ہندوؤں اور سکھوں کی تمام ہمدردیاں غدر پارٹی کے ساتھ تھیں۔پارٹی نے ”غدر“ کے نام سے امریکہ سے ایک رسالہ جاری کیا جو اردو، گور مکھی، گجراتی، ہندی، گور کھا زبانوں میں چھپتا تھا اور امریکہ کے علاوہ کینیڈا، فلپائن، نجی، جاپان، چین، شنگھائی، ہانگ کانگ، جاوا، سماٹرا، ملایا، برما، سیام، مشرقی افریقہ اور ہندوستان میں بھیجا جاتا تھا۔14 اس رسالہ کے مقاصد اس کے پہلے شمارہ میں حسب ذیل بتائے گئے۔” اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے عوام انگریزی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں، ان کو تباہ کر دیں، ان کی بیخ کنی کر دیں۔بالکل ایسے ہی جیسے کوئی کرم خوردہ درخت ہو۔اور ہمارا بنیادی مقصد انگریز کو نکال کر ہندوستان میں ایک حکومت قائم کرنا ہے۔“