مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 116 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 116

116 قابل ذکر ہے۔دہلی میں جامع مسجد میں ہر میجسٹی کی خیریت کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔“ ”امر تسر میں ہندو سکھ اور مسلمان بہت بڑی تعداد میں اپنی عبادت گاہوں میں جمع ہوئے اور ملکہ عالیہ کے لئے دعائیں کیں۔بنوں میں مسلمان ملک، خان، ارباب اور افسران جامع مسجد میں جمع ہوئے اور ملکہ عالیہ کی درازی عمر کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔“ ڈیرہ غازی خان میں سرداروں ، تو مانداروں اور شہریوں کا عوامی اجلاس منعقد ہوا۔وزیر آباد میں مسلمانوں نے مسجدوں میں چراغاں کیا اور ملکہ کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔“ ” بہاولپور کے نواب نے اپنے نور محل میں جسے پر تکلف انداز میں روشن کیا گیا تھا، ایک سرکاری استقبالیہ کا اہتمام کیا۔۔۔۔یہ سب بر طانوی حکومت اور ملکہ عالیہ کے تخت شاہی کے ساتھ لوگوں کی گہری وابستگی کا ثبوت تھا۔دانشمندی، انصاف، پاکیزگی اور فرض جس کے سر پرست رہے ہیں اور جو ان کی (ملکہ عالیہ ) روز مرہ زندگی کے رفیق رہے ہیں۔ہر آنے والے سال کے ساتھ ان کی طاقتور حکومت کی بنیادیں زیادہ مضبوط ہوتی گئیں جبکہ اُن کی رعایا کی وفاداری و جانثاری زیادہ نرمی و سرگرمی سے بڑھتی رہی۔“15 جناب محمد طفیل صاحب نے اپنے رسالہ ” نقوش“ لاہور نمبر صفحہ 117 پر لکھا ہے: ”سید احمد شہید کو جب سکھوں کے مظالم کا علم ہوا کہ اُن کی مملکت میں صلوۃ واذان تک کی اجازت نہیں، مسجدوں میں گھوڑے بندھتے تھے اور مسلمانوں کی بیٹیاں جبراً چکلوں میں بٹھائی جاتی ہیں تو انہوں نے رنجیت سنگھ کے خلاف اعلان جہاد کر دیا۔“ پھر صفحہ 124 پر لکھا:۔یکم جنوری 1877ء کو ملکہ وکٹوریہ نے قیصرہ ہند کا لقب اختیار کیا۔ملکہ کو بحیثیت حکمران جو ہر دلعزیزی پنجاب میں حاصل ہوئی، وہ شاید ہی کسی حکمران کو حاصل ہوئی ہو۔لوگ سکھا شاہی سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ملکہ کے دور میں ہر طرف امن و سلامتی کا دور شروع ہوا۔لوگ آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرنے