مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 115 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 115

115 مذہبی رسوم ادا کرنے کی پوری آزادی ہے۔دوسرا وہ یہ جانتے ہیں کہ روس کے ظلم وجور سے اُسی وقت تک نجات حاصل ہے جب تک انگلستان سی عظیم الشان سلطنت مشرق میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے موجود ہے۔وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اگر مشرق میں انگلستان کو زوال آیا تو کل اسلامی سلطنتیں روس کی نوالہ ہو نگی۔13" امیر عبد الرحمن کا شمار نہایت ذہین، مذبر اور سخت گیر حکمرانوں میں ہوتا ہے۔وہ قیام جماعت احمدیہ سے نو سال قبل 1880ء میں بر سر اقتدار آئے اور یکم مئی 1901ء کو وفات پائی۔یہی نہیں خود مسلمانان ہند نے طوائف الملو کی اور سکھا شاہی سے نجات پر برطانوی حکومت کا جس شان و شوکت سے خیر مقدم کیا، وہ تاریخ کا سنہری ورق ہے جس کے بغیر بر صغیر پاک وہند کی کوئی تاریخ مکمل نہیں سمجھی جا سکتی۔اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح بعض روایات کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایران کے مشرک مگر عادل بادشاہ نوشیر وان کسری کے زمانہ حکومت میں اپنی ولادت پر فخر کرتے تھے ، اسی طرح مسلمانان ہند نے اسوہ نبوی کے عین مطابق محسنہ ملکہ وکٹوریہ کو اپنے دل میں جگہ دی۔یہی وجہ ہے کہ جب 16 فروری 1887ء کو ہندوستان بھر میں ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی منائی گئی تو مسلمانانِ ہند نے اظہار تشکر کا عدیم المثال اور پر جوش مظاہرہ کیا۔چنانچہ شمس العلماء حج سید محمد لطیف صاحب فیلو پنجاب یونیورسٹی و ممبر ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (1902- 1845ء) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”تاریخ لاہور میں بادشاہی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مسجد کو اسلحہ خانہ اور فوجی گوداموں کے لئے استعمال کیا۔لیکن برطانوی حکومت نے 1856ء میں اس کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔14 پھر ” تاریخ پنجاب“ میں ملکہ وکٹوریہ کے جشن جو بلی میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی دھوم دھام سے ملک گیر شرکت کا نقشہ کھنچتے ہوئے بتایا کہ ”دنیا نے کبھی اتنا خو شحال دور یا انتہائی محبوب ملکہ نہیں دیکھی تھی۔پنجاب ( جہاں پچاس سال پہلے رنجیت سنگھ کی حکومت تھی ہر میجسٹی کے مبارک دور کا پچاسواں برس انتہائی جوش و خروش سے منایا۔“ تمام اضلاع کے صدر مقامات پر امراء کے استقبال کے لئے دربار منعقد کئے گئے۔سپاس نامے پیش کئے گئے۔ہر میجسٹی کی ذات اور حکومت کے لئے پُر جوش وفا داری کے جذبے کا اظہار کیا گیا۔66 سلطنت کے طول و عرض میں عوام نے جس مسرت اور خوشی کا مظاہرہ کیا وہ