مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 117 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 117

117 لگے۔ضروریات زندگی سستی تھیں اور لوگ نیک اور متوکل تھے۔66 سکھوں نے اپنے عہد حکومت میں حضرت اور نگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی شاہی مسجد لاہور کی بے حرمتی کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھار کبھی چنانچہ جناب محمد عبد اللہ قریشی نے رسالہ نقوش لاہور نمبر صفحہ 567 میں لکھا ہے :- دو سکھوں کے آخری دور میں مسجد کے صحن سے اصطبل کا کام لیا جاتا تھا اور مسلمانوں پر اُس کے دروازے بند تھے۔انگریزوں کے آنے تک مسجد کی حالت نہایت خراب و خستہ ہو چکی تھی۔1856ء میں سر جان لارنس چیف کمشنر پنجاب کی سفارش پر حکومت ہند نے مسجد مسلمانوں کو واگزار کی اور اس میں ایک بار پھر خدا کا نام گونجنے لگا۔“ الغرض برطانوی حکومت کی آمد سے مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوا اور مدتوں کے بعد انہیں پہلی بار پورے ملک میں اپنے مذہبی فرائض بجالانے کی آزادی ملی۔اور یہ ایسی نعمت ہے جس کا عملی شکریہ مسلمانان ہند نے اسلامی روایات کے عین مطابق اپنی بے لوث خدمات اور سچی وفاداریوں سے دیا۔جس میں ہندوستان کی مسلم ریاستوں (رام پور، بھوپال، حیدر آباد اور بہاولپور) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو تاریخ کا حصہ ہے۔مسلمانان ہند کے مقابل ابو الکلام صاحب آزاد 1905ء میں ہند و کانگریس اور غدر پارٹی سے وابستگی کے بعد کس طرح بغاوت کے شعلے بھڑ کانے میں سرگرم ہو گئے ؟ علامہ الطاف حسین پانی پتی نے محمڈن اینگلو اور نٹیل ایجو کیشنل کانفرنس کے اجلاس سالانہ (27 تا30 دسمبر 1898ء) کے نام پیغام میں فرمایا: اگر ہندوستان میں انگریزوں کا قدم نہ آتا تو مسلمانوں کو وہی روز سیاہ دیکھنا پڑتا جو اسپین کے مسلمانوں کو ان کی سلطنت کے زوال کے بعد دیکھنا پڑا وہ اپنی سلامتی بلکہ اپنا وجود ہندوستان میں محض انگریزی حکومت کی بدولت جانتی ہے۔16 حواشی: 1 2 بحوالہ " حواشی ابو الکلام آزاد۔زیر مطالعہ کتابوں پر صفحہ 32-34- مرتب سید مسیح الحسن۔ناشر مکتبہ قدوسیہ غزنی اسٹریٹ لاہور۔جنوری 1992ء۔الہلال کلکتہ 10 مارچ 1913ء صفحہ 10 کالم 1۔3 اقبال کے ممدوح علماء صفحہ 103۔مولف قاضی افضل حق قریشی ناشر مکتبہ محمود یہ کریم پارک راوی روڈ لاہور اشاعت دوم اگست 1978ء۔