مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 114 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 114

114 کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت حضور خلیفہ المسلمين سلطان المعظم نے ہی دی تھی۔جنوبی افریقہ میں جنگ بوئر ہوئی۔تقریباً تمام یورپ انگلستان کے بر خلاف تلا ہوا تھا۔فرانسیسی اخبارات کیا کچھ زہر اگل رہے تھے۔اور دنیا بھر کو انگلستان سے بد ظن کر رہے تھے لیکن ترکی نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ہزار ہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔مساجد میں انگریزوں کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔عبید اللہ آمندی رکن مجلس وضع قوانین اور دیگر اکابر حکومت عثمانیہ نے سفارتخانہ انگلشیہ واقعہ پیرا میں جاکر انگریزوں کی بقاء و ظفر کے لئے دعا مانگی۔“12 ان مذہبی فتاویٰ کے علاوہ ہندوستان کی ہمسایہ مسلمان مملکت افغانستان کے بادشاہ ”ضیاء الملۃ والدین امیر عبدالرحمن غازی“ نے اپنی کتاب ”دبدبہ امیری“ کے باب ہشتم میں انگلستان، روس، افغانستان کے زیر عنوان صاف لفظوں میں لکھا کہ :- گور نمنٹ روس کی پالیسی امیر بخارا اور دیگر میران وسط ایشاء اور ترکی، ایران اور افغانستان کی نسبت یہی رہی ہے کہ وہ قومی نہ ہونے پائیں جو اُس کی دائمی پیش قدمی میں مخل ہوں۔ایشیائی سلطنتوں کی دقتوں اور کمزوریوں سے روس برابر فائدہ اٹھاتا ہے۔بعض اسلامی ریاستوں پر وہ بالکل قابض ہو گیا ہے۔بخلاف اس کے انگلش پالیسی عموماً اسلام اور گل اسلامی سلطنت ہائے ایشیا کے ساتھ دوستانہ ہے اور انگلستان کی دلی خواہش ہے کہ یہ سلطنتیں قائم رہیں، خود مختار ہوں۔بخلاف اس کے روس کی پالیسی اس کے بر عکس ہے ، نہ صرف اس وجہ سے کہ اس کے ملک کے حدود ہندوستان کی سرحد سے مل جائیں بلکہ اُسے ہمیشہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر ترکی یا ایران یا افغانستان یا ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی تو اس کی مسلمان رعایا میں عام غد ر ہو جائے گا۔اس میں شک نہیں کہ تمام دنیا کے مسلمان سلطنت برطانیہ کی دوستی کو روس کی دوستی پر ترجیح دیتے ہیں۔“ نیز لکھا۔”اگر روس اور برطانیہ اعظم میں جنگ ہوئی تو ہر حالت میں مسلمان سلاطین اور عام مسلمان انگلستان کا ساتھ دیں گے۔اول تو انہیں مکہ معظمہ کی عملداری میں اپنے