مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 113 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 113

113 9% ادا کرنے میں مزاحم ہوتے ہیں۔اگر سکھ اب یا ہمارے غلبہ کے بعد ان حرکات مستوجب جہاد سے باز آجائیں گے تو ہم کو اُن سے لڑنے کی ضرورت نہ رہے گی۔جناب سید ہاشمی فرید آبادی، حضرت شاہ اسمعیل شہید کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: شاہ صاحب نے سکھ شاہی پنجاب کا خفیہ دورہ لگایا۔وہاں کے مسلمان جس مصیبت میں پھنس گئے تھے ، اُس کی حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔مظلوموں کی زبانوں سے سنی۔بہت سی غیر آباد مساجد ، مقابر ، خانقاہیں، جنگلی حاکموں کے طویلے بن گئی تھیں۔جہاں آبادی باقی رہی، وہاں اذان دینی مخدوش بلکہ کہیں کہیں بالکل ممنوع تھی۔“10 سید ہاشم فریدی تحریر فرماتے ہیں: حضرت سید احمد بریلوی نے بار بار اعلان کیا کہ انگریزوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ان کے مقبوضات میں شورش و فساد مچانا ہم جائز نہیں سمجھتے (سوانح احمدی کے واقعات اور مکاتیب میں کوئی ہمیں جگہ سید صاحب نے انگریزوں کی مخالفت کو غیر ضروری اور ناجائز بتایا ہے ) سکھوں سے نامہ و پیام کی ضمن میں بھی وہ یہی جتاتے تھے کہ جہاد کا مقصد حکومت و بادشاہی حاصل کرنا نہیں، ہم صرف مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لئے لڑتے ہیں۔“11 یہی نہیں خلیفتہ المسلمین ترکی نے غدر 1857ء میں ہندوستانی مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ ہندوؤں کی ناپاک مسلح سازش سے بالکل الگ رہیں اور حکومت وقت کی اطاعت کریں۔چنانچہ حسین احمد مدنی صاحب نے ” نقش حیات جلد دوم صفحہ 631 میں اعتراف کیا ہے :- 66 "1857ء میں سلطان عبد المجید مرحوم سے فرمان، مسلمانوں کے لئے انگریزوں سے لڑنے اور اُن کی اطاعت کرنے کا بحیثیت خلافت حاصل کیا اور ہندوستان میں پراپیگنڈا کیا کہ خلیفہ کے حکم پر چلنا مسلمانوں کے لئے مذہبی حیثیت سے فرض ہے۔“ جناب شیخ عبد القادر صاحب بیر سٹر ایٹ لاء سیکرٹری خلافت کمیٹی سیالکوٹ کا یہ بیان ماضی کے دبینر پر دوں میں پوشیدہ حقائق کی خوب عکاسی کرتا ہے۔فرماتے ہیں۔”1857ء میں ہندوستان میں غدر مچا۔اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں