مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 112
112 جناب آزاد کی تشد د پسند انقلابیوں کی رفاقت اور مسلح بغاوت میں شرکت کی مزید تفصیل آپ کے قریبی اور گہرے ساتھی جناب مولوی عبد الرزاق ملیح آبادی کے قلم سے درج ذیل ہے۔” یہ واقعہ کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ شروع شروع میں مولانا تشدد پسند انقلابیوں کے ساتھ تھے اور ہندوستان میں مسلح بغاوت کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ایک طرف بنگال کے انقلابیوں سے تعلقات استوار تھے۔دوسری طرف سرحد کے قبائل میں اُن کے آدمی کام کر رہے تھے۔جب اُن کی رفاقت میں (1920ء) آیا تو اس وقت تک مولانا مسلح بغاوت ہی کے قائل تھے۔ایک دفعہ خود مجھے ایک جگہ بھیجا تھا اور میں دو در جن پستول لے آیا جو انہوں نے کسی اور کے ہاتھ کہیں بھیج دئے تھے“ 7 آزاد کی اسلامی تعلیم سے بغاوت یہ سب مسلح کوششیں سراسر ، اگر چہ انقلاب سوشلزم کے لئے تو از بس ضروری تھیں مگر اسلامی تعلیم سے سر اسر بغاوت کے مترادف تھیں جیسا کہ حسین احمد صاحب دیوبندی نے خود اسی کتاب میں بر صغیر کے مستند عالم دین اور حضرت سید ولی اللہ شاہ دہلوی کے فرزند حضرت شاہ عبد العزیز کا یہ فتویٰ ریکارڈ کیا ہے کہ۔8" اگر کسی ملک میں سیاسی اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہر حال اُس اقتدار میں شریک ہوں اور اُن کے مذہبی ودینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو تو وہ ملک شاہ صاحب کے نزدیک بے شبہ دارالاسلام ہو گا۔اور ازروئے شرع مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لئے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔اسی طرح انہوں حضرت سید احمد شہید بالا کوٹ ( مجدد تیر ہویں صدی) کے مستند سوانح نگار مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری کی کتاب ”سوانح احمدی صفحہ 70) کے حوالے سے لکھا ہے :- ” ایک مرتبہ ایک سوال کے جواب میں سید صاحب نے صاف صاف فرمایا کہ کسی ملک کو چھین کر ہم بادشاہت کرنا نہیں چاہتے بلکہ سکھوں سے جہاد کرنے کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے برادرانِ اسلام پر ظلم کرتے اور اذان وغیرہ مذہبی فرائض